حیدرآباد۔30۔اکٹوبر(سیاست نیوز) منوگوڑ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں اب جبکہ محض تین دن کا وقت رہ گیا ہے ایسے میں سٹہ بازار کی پسندیدہ جماعت ٹی آر ایس بن چکی ہے اور سٹہ بازارکے مطابق پارٹی امیدوار کی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود سٹہ بازار منوگوڑ ضمنی انتخابات کو سہ رخی مقابلہ کے بجائے چار رخی مقابلہ کے طور پر دیکھ رہا ہے کیونکہ سٹہ بازار کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر ذات پات کی بنیاد پر رائے دہی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں بہوجن سماج پارٹی امیدوار بھی مقابلہ میں شامل رہے گا کیونکہ بہوجن سماج پارٹی واحد ایسی سیاسی جماعت ہے جس نے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو امیدوار بنایا ہے جبکہ بی جے پی ، ٹی آر ایس اور کانگریس کے امیدوارو ںکا تعلق ریڈی طبقہ سے ہے لیکن منوگوڑ حلقہ اسمبلی میں پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں کی تعداد قابل لحاظ ہے۔ سٹہ بازوں کا کہناہے کہ فارم ہاؤز میں ارکان اسمبلی کی خریدی کی کوشش کے انکشاف کے بعد ٹی آر ایس عوام کی پسندیدہ جماعت ہوگئی۔ لیکن اس کے باوجود 30 فیصد سے زائد رائے دہندوں میں اب بھی خاموشی پائی جاتی ہے جو کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے امیدوار کی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ سٹہ بازوں نے تلنگانہ ٹی آر ایس کی کامیابی کے مارجن پر سٹہ وصول کرنا شروع کردیا ہے ۔م