ایک لاکھ روپئے کو محض ایک روپیہ کہا جا رہا ہے
حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز) منوگوڑانتخابات میں روپئے کی قدر کو گھٹا کر پیش کیا جا رہا ہے !بھاری رقومات کی منتقلی کے معاملات میں ملوث افراد رقمی منتقلی کے دوران ایک لاکھ روپئے کو ایک روپیہ اور 10 لاکھ روپئے کو 10 روپئے کہنے لگے ہیں تاکہ ان کی گفتگو سے کسی کو کوئی شک نہ ہونے پائے ۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ کو ایک پیٹھی کہا جاتا تھا اور ایک کروڑ کو ایک کھوکا کہاجاتا تھا لیکن اب ایک کروڑ کو ایک روپیہ کہا جا رہاہے اور 25لاکھ کو 25پیسے کہاجانے لگا ہے۔دولت میں اضافہ کے بعد کالے دھن کی منتقلی کرنے والوں کی نظر میں روپئے کی قدر میں نہ صرف گراوٹ آئی ہے بلکہ وہ بڑی معاملتوں کو محض پیسوں میں شمار کرکے عہدیداروں اور اہلکاروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی ریاستوں میں حوالہ کاروبار میں ملوث افرادلاکھ کو ’روپیہ‘ کہتے ہیں جبکہ مہاراشٹرا‘گجرات ‘دہلی اور اترپردیش و دیگر علاقوں میں لاکھ کو پیٹھی کہاجاتا تھا ۔کاروبار میں شامل افراد کے مطابق لاکھ کو پیٹھی اور کروڑ کو کھوکا کہنے کا کلچر روڈی و غنڈہ عناصر کے پاس ہے جبکہ ایک لاکھ کو ایک روپیہ قرار دینا تجارتی برادری کا طریقہ رہا لیکن اب لاکھ روپئے پیسوں میں تبدیل کئے جاچکے ہیں اور کروڑ کو روپیہ میں شمار کیا جانے لگا ہے ۔ منوگوڑانتخابات میں جو دولت ضبط کی جا رہی ہے اس کے متعلق سیاسی قائدین جو فون پر بات کر رہے ہیں وہ اسی کوڈ میں کر رہے ہیں جس سے سننے والوں کو اندازہ نہیں ہورہا ہے کہ کتنی رقم کے متعلق بات ہورہی ہے کیونکہ سابق میں 20 روپئے یا 25روپئے کی بات کی جاتی تھی اور اب عوام اس سے واقف ہوچکے ہیں کہ کس طرح اور کتنی رقم کی بات کی جا رہی ہے۔ م