تلنگانہ میں کوئی کیس نہیں: وزیر صحت ہریش راؤ
حیدرآباد۔19 ولائی (سیاست نیوز) منکی پاکس جان لیوا نہیں ہے لیکن اگر کوئی اس کا شکار ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اسے شدید تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرناپڑرہا ہے اسی لئے منکی پاکس سے محفوظ رہنے کے اقدامات کئے جانا ضروری ہے۔ ریاستی وزیر صحت مسٹر ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ میں عوام کو منکی پاکس سے چوکس رہنے اور اس سے محفوظ رہنے کے اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 60ممالک منکی پاکس کے مریضوں سے متاثر ہوچکے ہیں اور تاحال 1لاکھ 20ہزار مریضوں کی دنیا کے ان 60 ممالک میں نشاندہی کی جاچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں کوئی بھی منکی پاکس کا مریض نہیں ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے مکمل چوکسی اختیار کرنے اور مریضوں کی نشاندہی کی صورت میں انہیں قرنطینہ کرنے کے اقدامات کئے جاچکے ہیں۔ منکی پاکس کی ابتداء جسم پر خارش کے نشانات کے ساتھ ہورہی ہے اور انتہائی تکلیف دہ خارش کے سبب مریضوں کو مشکل اور تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔منکی پاکس کے متاثرین میں غیر فطری عمل کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس کے علاوہ منکی پاکس کے متاثرین سے قربت اختیار کرنے والوں کو یہ بیماری لاحق ہورہی ہے۔ ماہرین نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ منکی پاکس کے متاثرین سے راست رابطہ میں آنے کی صورت میں یہ بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوسکتی ہے اسی وجہ سے دنیا بھر میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے منکی پاکس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں جلد ہی رہنمایانہ خطوط جاری کئے جانے کا امکان ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت نے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام میں منکی پاکس کے متعلق شعور بیداری مہم چلائیں۔ رپورٹس کے مطابق منکی پاکس تیزی سے پھیلنے والا وائرس نہیں ہے لیکن اگر متاثرہ مریض کے ساتھ طویل مدت تک وقت گذاراجاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے اسی لئے عالمی ادارہ ٔ صحت نے منکی پاکس کے شکار ہونے والوں کے لئے بھی قرنطینہ کی شرط عائد کردی ہے تاکہ دوران علاج انہیں قرنطینہ میں رکھتے ہوئے دوسروں سے رابطہ میں آنے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ملک میں اب تک منکی پاکس کے متاثرہ دو مریضوں کی نشاندہی ہوچکی ہے جنہیں قرنطینہ میں رکھتے ہوئے علاج کیا جا رہاہے۔م