کوٹا میں طلبہ سے براہِ راست گفتگو‘ نیٹ، کوچنگ اور روزگار پر تفصیلی بات چیت
نئی دہلی ۔17؍جون ( ایجنسیز ) کانگریس قائد راہول گاندھی نے کہا کہ ملک کے موجودہ تعلیمی نظام نے نوجوانوں کے خوابوں کو محدود کر دیا۔ کوٹا میں آج طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیتا ہے حالانکہ ہر طالب علم کے اندر الگ صلاحیت اور الگ خواب موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک اپنے سفر کے دوران جب وہ نوجوانوں سے پوچھتے تھے کہ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں تو زیادہ تر جوابات چند روایتی شعبوں، جیسے ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسر یا اسی نوعیت کے دیگر پیشوں تک محدود ہوتے تھے۔راہول گاندھی کے مطابق جب وہ نوجوانوں سے انفرادی سطح پر تفصیلی گفتگو کرتے تو ان کے اصل خواب سامنے آتے۔ کوئی لڑکی خلاباز (ایسٹروناٹ) بننا چاہتی تھی، کوئی گلوکارہ بننے کی خواہش رکھتی تھی اور کوئی کسی دوسرے منفرد شعبے میں جانا چاہتا تھا۔ انہوں نے ایک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مقام پر وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر موجود تھا۔ انہوں نے چند طالبات کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرائی اور پائلٹ سے درخواست کی کہ وہ انہیں کاک پٹ بھی دکھائیں۔ بعد میں جب انہی طالبات سے دوبارہ پوچھا گیا کہ وہ کیا بننا چاہتی ہیں تو سب نے جواب دیا کہ وہ پائلٹ بننا چاہتی ہیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ نوجوانوں کے خواب اکثر مواقع کی کمی کے باعث محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر انہیں نئے تجربات، بہتر رہنمائی اور مختلف شعبوں سے واقفیت کا موقع دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔راہول گاندھی نے موجودہ تعلیمی نظام پر شدید تنقید اور کہا کہ یہ تعلیم کا نہیں بلکہ پیسہ نکالنے کا نظام ہے۔راہول گاندھی نے اپنے خطاب میں تعلیمی نظام، روزگار اور خاندانوں پر بڑھتے مالی بوجھ کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام طلبہ اور ان کے والدین سے بھاری رقم وصول کرتا ہے مگر اس کے بدلے کامیابی اور روزگار کی کوئی ضمانت نہیں دیتا۔ انہوں نے نیٹ، جے ای ای، یو پی ایس سی، ایس ایس سی اور ریلوے بھرتی جیسے بڑے امتحانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں خاندان اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے قرض لیتے ہیں اور اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں لیکن ان کیلئے کامیابی کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے پانچ بڑے امتحانات کے ذریعے والدین کی جیبوں سے نکلنے والی رقم بعض اہم وزارتوں کے مجموعی بجٹ کے برابر پہنچ جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی نظام نوجوانوں کے خواب پورے کرنے کے بجائے ان پر مالی دباؤ بڑھا رہا ہے۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے، اپنی پسند کے شعبوں کا انتخاب کرنے اور کم سے کم مالی بوجھ کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کا موقع دے۔ انہوں نے طلبہ سے تجاویز طلب کرتے ہوئے اس مہم کو ایک وسیع تحریک کی شروعات قرار دیا اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات پر زور دیا۔