7 لا محدود صحت بیمہ کی اہمیت 7 انشورنس کروالیں ورنہ
سنجے کمار سنگھ ، کارتک جیروم
آج کل ہمارے ملک میں لا محدود یا Un Limited Healthe Insurance ہیلتھ انشورنس کی اہمیت اور ضرورت پر ایک بحث چل پڑی ہے۔ ایک ایسے وقت جبکہ طبی شعبہ میں مریضوں کیلئے اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے ہیں ہیلتھ انشورنس کروانے میں ہی سمجھداری ہے جو یقیناً ہنگامی حالات میں ہمارے اور آپ کیلئے راحت کا سبب بن سکتا ہے۔ فی الوقت اکثر لوگ اپنے اور اپنے ارکان خاندان کیلئے لامحدود انشورنس کروانے پر غور کرنے لگے ہیں جن میں سبھاش سوریہ بھی شامل ہیں۔ ان کی عمر 48 سال ہے اور وہ اپنے ارکان خاندان کیلئے لامحدود ہیلتھ انشورنس (صحت بیمہ) لینے پر غور کررہے ہیں۔ انشورنس پلانس کے تحت وصول کئے جانے والے بھاری پریمیم ادا کرنے سے پہلے وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا کسی بڑے Claim یا دعویٰ کی صورت میں انہیں واقعی پوری رقم ادا کی جائے گی یا نہیں۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہیکہ لامحدود انشورنس پلانس کا کیا مطلب ہے؟ ان پلانس کے تحت صارفین کو بیمہ کی رقم ختم ہوجانے کے خدشہ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
بڑھتے طبی اخراجات سے تحفظ : کوئی سنگین بیماری اس بات کی آزمائش بن سکتی ہے کہ برسوں پہلے لیا گیا Insurance Cover آج کے طبی اخراجات کیلئے کافی ہے یا نہیں؟ لا محدود بیمہ کور والے Plans اس تشویش کو دور کرتے ہیں۔ منی پال سگنا ہیلتھ انشورنس کے سربراہ پراڈکٹ ڈیولپمنٹ ونیت گپتا کہتے ہیں کہ ’’یہ Plans سنگین بیماریوں اعضاء کی پیوندکاری، بڑے آپریشنوں اور طویل مدت تک آئی سی یو میں رہنے کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ بعض اوقات اسپتال کے بل مختلف مرحلوں میں آتے ہیں ایک ہی مریض کے لئے بار بار اسپتال میں بھرتی اور خاندان کے مختلف افراد کیلئے متعدد Claims کی وجہ سے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
ہیلتھ انشورنس میں لا محدود Cover کی اہمیت : کوریج ختم ہونے کی صورت میں مریضوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس طرح علاج کے معاملہ میں سمجھوتہ کرنے سے بچا جاسکتا ہے۔ NIVA BUPA ہیلتھ انشورنس کے ڈیجیٹل بزنس یونٹ کے ڈائرکٹر اور چیف مارکٹنگ آفیسر نمیش اگروال کہتے ہیں کہ علاج کے امکانات اس بات سے متاثر نہیں ہوتے کہ بیمہ شدہ کتنی رقم باقی رہ گئی ہے: ہمارے ملک ہندوستان کے طبی اخراجات میں سالانہ تقریباً 14 فیصد اضافہ کا اندازہ ہے۔ اس وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ بیمہ کی ایک مقررہ رقم ناکافی ثابت ہوسکتی ہے۔
بحالی کی خاصیت سے مختلف : خریدار یہ ضرور سوچ سکتا ہے کہ Restore والی مقررہ رقم کی میڈیکل انشورنس بھی اسی طرح کا تحفظ فراہم کرسکتی ہے؟ اس بارے میں بتایا گیا کہ کسی ایک فرد کے علاج کے دعوے کی ادائیگی بنیادی بیمہ شدہ رقم تک محدود رہتی ہے۔ چاہے انشورنس کی رقم دوبارہ بحال کرنے کی سہولت موجود ہو۔ گپتا کہتے ہیں کہ اس کے برعکس لامحدود کوریج والا Plan علاج کے پورے خرچ کی ادائیگی کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ پالیسی کی شرائط کے عین مطابق ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے 10 لاکھ روپئے کی بنیادی بیمہ کوریج لی ہے اور اسے 15 لاکھ روپئے کے علاج کا بل ادا کرنا پڑتا ہے تو بحالی خاصیت کے باوجود پالیسی صرف 10 لاکھ روپئے ادا کرتی ہے مابقی 5 لاکھ روپئے مریض کو اپنی جیب سے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس لامحدود بیمہ کوریج والا Plan پورے 15 لاکھ روپئے ادا کرسکتا ہے۔ کچھ پالیسیوں میں بحال کی گئی بیمہ شدہ رقم صرف کسی دوسری بیماری یا خاندان کے کسی دوسرے بیمہ شدہ فرد کے علاج کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف ارون رام مورتی کا کہنا ہیکہ صارفین کو یہ فرض نہیں کرنا چاہئے کہ لامحدود کوریج والا منصوبہ ہر قسم کے خرچ کی غیرمشروط ادائیگی کرے گا۔
موجودہ پریمیم سے آگے بھی سوچیں: لامحدود کوریج والے انشورنس پلان مہنگے ہوتے ہیں۔ گوئل کے خیال میں فی الوقت دہلی میں مقیم 35 سالہ شخص کیلئے لامحدود کوریج والے پلان کی قیمت تقریباً 12000 سے 15000 روپئے سالانہ ہے۔ 65 سالہ شخص کیلئے یہ رقم بڑھ کر 55 ہزار سے 60 ہزار روپئے تک پہنچ جاتی ہے لیکن آج کی قیمتوں سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ مستقبل میں پریمیم کس رفتار سے بڑھے گا۔ ان Plans کے حوالے سے دعوؤں کا تجربہ ابھی محدود ہے۔ مستقبل میں Claims کی رقم انشورنس کمپنیوں کے اندازوں سے زیادہ ہوسکتی ہے اس بات کا بھی امکان ہیکہ Claims کے تجربہ، شعبہ طب میں بڑھتی مہنگائی اور عمر کے اثرات کی بنیاد پر انشورنس کمپنیاں پریمیم میں توقع سے زیادہ اضافہ کردیں۔ راما مورتی کہتے ہیں کہ ان Plans میں طویل مدت تک اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے غیریقینی صورتحال ایک خطرہ ہے۔کس کو ان Plans کی ضرورت ہے ؟ لا محدود کوریج والے انشورنس پلانس ان افراد کیلئے قابل غور ہوسکتے ہیں جو طویل مدت کیلئے مالی تحفظ چاہتے ہیں اور طبی اخراجات کے باعث اپنی مالی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنا نہیں چاہتے۔