ممبئی، 4 ستمبر ( یو این آئی ) مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومتوں کی بدعنوانی اور الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ طریقۂ کار کے خلاف نوجوانوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے ۔ شیواجی پارک میں ہونے والے احتجاج کے ذریعے نوجوانوں نے اپنے اس غصے کو آواز دینے کا کام کیا ہے ۔ لیکن مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی اس آواز کو دبانے کے لیے حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے ہیں۔ بی جے پی حکومت یہ سمجھ لے کہ کتنے ہی مقدمات درج کرلے ، لیکن اب نوجوان پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ یہ سخت پیغام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی حکومت کو دیا ہے ۔ تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر نے کہا کہ ملک کی جمہوریت اور آئین خطرے میں ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے نوجوان سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات ملک کے سامنے موجود اہم مسائل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں اور ریاست کے چیف الیکشن افسر کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھیجے گئے خطوط پر گیانیش کمار خاموش کیوں ہیں؟ بی جے پی کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے ۔ بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے بجائے بی جے پی کو ہمیشہ کی طرح ہندو۔مسلم اور بھارت۔پاکستان کا راگ الاپنا بند کرنا چاہیے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کرے گی تو اس کی بھاری قیمت بی جے پی حکومت کو چکانی پڑے گی۔
بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے بجائے بی جے پی کو ہمیشہ کی طرح ہندو۔مسلم اور بھارت۔پاکستان کا راگ الاپنا بند کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کرے گی تو اس کی بھاری قیمت بی جے پی حکومت کو چکانی پڑے گی۔