غیر ضروری اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے گریز کا مشورہ ، ڈاکٹرس سے رجوع کرنا ضروری
حیدرآباد۔9۔جنوری(سیاست نیوز) دونوں شہروں میں وائرل بخار اور ناسازی صحت کی شکایات کے ساتھ ڈاکٹرس سے رجوع ہونے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران بھی مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا لیکن ماہر اطباء کی جانب سے مریضوں کو مشورہ دیا جا رہاہے وہ غیر ضروری اینٹی بائیوٹیک ادویات کا استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے علاج پر توجہ دیں ۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ موسم کی تبدیلی کے اثرات کے علاوہ دیگر علامات کے ساتھ مریضوں کی بڑی تعداد دواخانوں سے رجوع ہونے لگی ہے اور مریضوں میں ہر عمر کے مرد و خواتین شامل ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جو مریض دواخانہ سے رجوع ہورہے ہیں وہ سردی‘ نزلہ ‘ بخار‘ کھانسی ‘ اعضاء شکنی ‘ دست و قئے کے علاوہ گلے میں خراش و دیگر علامات کا شکار ہیں اور مریض ان علامات کا مناسب علاج کروانے کے بجائے میڈیکل شاپس پر دستیاب ہونے والی اوور دی کاؤنٹر ادویات سے کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ان کی صحت کو دائمی نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ اینٹی بائیوٹیک کے استعمال کے تسلسل سے جسم میں موجود قوت مدافعت کمزور ہونے کے علاوہ جسم اینٹی بائیوٹیک ادویات کا عادی ہوجاتا ہے اور ایک مدت گذرنے کے بعد جسم پر یہ ادویات اثر انداز ہونا بند ہوجاتی ہیں۔ اسی لئے ڈاکٹرس کے مشورہ کے بغیر اینٹی بائیوٹیک کے استعمال کے بجائے مریضوں کو ڈاکٹرس سے رجوع ہوتے ہوئے مرض کے متعلق ادویات تجویز کرواتے ہوئے استعمال کرنی چاہئے ۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اگر مریضوں کی جانب سے اپنے طور پر اینٹی بائیوٹیک ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں وہ کمزور قوت مدافعت کے سبب دیگر وائرل امراض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ کورونا وائرس کی ایک اور لہر کے سلسلہ میں جاری کئے جانے والے انتباہ کے دوران ریاست میں گلے میں خراش‘ بخار‘ کھانسی ‘ نزلہ اور پیچش کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے بعد ڈاکٹرس نے مریضوں کی قوت مدافعت کی جانچ شروع کردی ہے ۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کی ابتدائی لہر کے بعد ریاست تلنگانہ میں کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ تلنگانہ میں مریضوں کی جانب سے قوت مدافعت میں اضافہ اور ازخود علاج کی کوشش کے دوران اینٹی بائیوٹیک ادویات کا بے دریغ استعمال کیاتھا جس کی وجہ سے کئی اینٹی بائیوٹیک ادویات مریضوں پر اب اثر نہیں کر رہی ہیں اور انہیں ہائی ڈوز اینٹی بائیوٹیک ادویات تجویز کرنی پڑرہی ہیں ۔م