ریٹائرڈ جسٹس ولاس افضل پورکر صدر نشین، اندرون 4 ماہ رپورٹ طلب
حیدرآباد۔نیشنل گرین ٹریبونل نے موسی ندی کے تحفظ کیلئے ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ولاس افضل پورکر کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مرکزی اور ریاستی سطح کے پولیوشن کنٹرول بورڈ کے نمائندوں کے علاوہ حیدرآباد کلکٹر کو کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔ اندرون ایک ماہ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد کرنے نیشنل گرین ٹریبونل نے ہدایت دی ہے۔ کمیٹی کو اپنی پہلی رپورٹ اندرون چار ماہ پیش کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ نیشنل گرین ٹریبونل نے موسی ندی کے تحفظ کیلئے جامع سفارشات پیش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اسی دوران ٹریبونل نے موسی ندی کے تحفظ کیلئے حکومت کے اقدامات پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ حکومت کے اقدامات سے ٹریبونل مطمئن نہیں ہے۔ ٹریبونل نے کہا کہ حکومت نے جو تخمینہ مقرر کیا وہ حقائق سے بعید ہے۔ نیشنل مشن فار کلین گنگا عہدیداروں کی جانب سے دی گئی اطلاعات کے مطابق عہدیداروں نے 20 فیصد زائد شرح مقرر کی ہے۔ موسی ندی کے تحفظ کیلئے محمد نعیم پاشاہ نامی شخص نے نیشنل گرین ٹریبونل میں درخواست دائر کی جس پر کارروائی کرکے ٹریبونل نے احکام جاری کئے۔ ٹریبونل نے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں کمیٹی قائم کرکے اہم قدم اٹھایا ہے۔