مولوی محمد عمر قتل کیس :33 سال بعد دو مفرور دہشت گرد گرفتار

   

جموں: جموں و کشمیر پولیس نے مرحوم میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق کے قتل کیس میں حزب المجاہدین کے دو مفرور دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ واضح رہیکہ مرحوم میر واعظ کو 1990 میں ان کی نگین رہائش گاہ پر دہشت گردوں نے قتل کردیا تھا۔ جموں و کشمیر پولیس کی سی آئی ڈی ونگ کے اسپیشل ڈی جی جی آر سورین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میر واعظ فاروق کے قتل کیس میں تین دہائیوں کے بعد اہم پیشرفت حاصل ہوئی ہے اور دو مفرور دہشت گردوں کو گرفتار کرکے سی بی آئی کے سپرد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار شدہ ان دہشت گردوں میں وہ دہشت گرد بھی شامل ہے جس نے مرحوم میر واعظ کے بیڈ روم میں داخل ہوکے ان پر گولیاں چلائی تھیں۔ گرفتار شدہ ان دو اشتہاری ملزمیں کی شناخت نٹی پورہ سرینگر کے جاوید احمد بٹ اور بٹہ مالو سرینگر کے ظہور بٹ کے طور پر ہوئی ہے اور یہ دونوں مجرم تین دہائیوں سے فرار تھے اور پولیس انکو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔پولیس کے مطابق ظہور احمد بٹ نامی دہشت گرد نے ہی میر واعظ کے بیڈ روم میں گھْس کر میر واعظ پر گولیاں چلائی تھیں۔ ڈی جی سی آئی ڈی نے کہا کہ اس قتل کیس میں کْل پانچ دہشت گرد ملوث تھے اور پہلے ہی ایک ملزم کو عمر قید کی سزا مل گئی ہے۔پولیس کے مطابق ظہور احمد بٹ نامی دہشت گرد نے ہی میر واعظ کے بیڈ روم میں گھْس کر میر واعظ پر گولیاں چلائی تھیں۔ ڈی جی سی آئی ڈی نے کہا کہ اس قتل کیس میں کْل پانچ دہشت گرد ملوث تھے اور پہلے ہی ایک ملزم کو عمر قید کی سزا مل گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قتل کیس کے ماسٹر مائنڈ عبداللہ بنگرو پہلے ہی ایک انکاونٹر میں مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح میرواعظ مولوی محمد فاروق کا قتل کیس حل ہوگیا ہے۔