وینکٹ پارسا
آج کل مکہ دفاعی معاہدہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے اور خاص طور پر ہندوستان میں حکومتی سطح پر اس معاہدہ پر گہری نظر رکھی گئی ہے اور اس کیلئے یہ کہا جارہا ہیکہ مشرق وسطیٰ سے ہندوستان کے مفادات وابستہ ہیں اور ان مفادات کا تحفظ اس کا اپنا حق ہے۔ اس دوران یہ بھی سوال گردش کررہا ہیکہ کیا مودی حکومت مکہ دفاعی معاہدہ کو ناکام بنانے کی خواہاں ہے؟ بہرحال ہم ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کی بات کرتے ہیں جو عالمی سطح پر بغلگیر ہونے یعنی عالمی رہنماؤں سے آگے بڑھ بڑھ کر گلے ملنے یا بغلگیر ہونے کے معاملے میں کافی شہرت پاچکے ہیں۔ آپ کو یاد دلادیں کہ روس۔ یوکرین جنگ کے دوران (جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے یہ جنگ فبروری 2014ء میں شروع ہوئی تھی اور 2022ء میں شدت اختیار کر گئی جس میں اب تک روس اور یوکرین کو زبردست جانی و مالی نقصانات برداشت کرنے پڑے) پہلے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور بعد میں یوکرینی صدر زیلنسکی کو مودی نے گلے لگایا۔ دونوں سے مودی نے بڑے پرجوش انداز میں ملاقات کی۔ بڑے پرتپاک سے ملے اور وہ دونوں تصاویر سوشل میڈیا پر اس جملے کے ساتھ وائرل ہوگئیں کہ صرف وزیراعظم نریندر مودی ہی پوٹن اور زیلنسکی کو گلے لگا سکتے ہیں ان سے بغلگیر ہوسکتے ہیں۔ اس تصویر اور اس کے نیچے دیئے گئے کیپشن یا جملہ کا اشارہ اس جانب تھا کہ یوکرین جنگ کے خاتمہ میں وزیراعظم نریندر مودی کا ایک بہت بڑا اور اہم سفارتی کردار ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے برعکس ہمارے پڑوسی ملک پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا سفارتی رتبہ و حیثیت میں غیرمعمولی بہتری دیکھی اور اس کا اثرورسوخ جنوبی ایشیاء سے آگے تک وسعت اختیار کر گیا۔ اس نے ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں کی جارہی جنگ میں (پہلے تو یہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ تھی لیکن فی الوقت اسرائیل نے خود کو ایک خاص حکمت عملی یا پھر مجبوری کے تحت اس جنگ سے الگ کرلیا) ثالث کے طور پر آگے آیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ اور ایران ان دونوں ملکوں کو پاکستان پر اعتماد تھا۔ ایسی صورتحال نے مودی حکومت کو Defensive پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا کیونکہ اسے مایوسی کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ کسی بھی جنگ کسی بھی مرحلہ اور کسی بھی وقت اس کے پاس ادا کرنے کیلئے کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ صورتحال ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے دورحکمرانی کے اعلیٰ سطحی فعال سفارتی کردار کے بالکل متضاد اور برعکس ہے۔ آپ خود غور کریں پنڈت جواہر لال نہرو کے عہدہ وزارت عظمیٰ میں ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے والا ملک سمجھا جاتا تھا حالانکہ اس دور میں ہندوستان نہ کوئی بڑی معاشی طاقت تھا اور نہ ہی اس کا شمار دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں میں ہوتا تھا۔ ہاں ہندوستان کے پاس صرف اس کی اخلاقی آواز تھی ایسی آواز جو ساری دنیا میں سنی جاتی تھی۔ ہندوستان کی یہ اخلاقی آواز مہاتما گاندھی اور خود پنڈت جواہر لال نہرو کی شخصیت کی وجہ سے عالمی برادری پوری توجہ سے سنتی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 1950 سے 1953 تک جاری رہی کوریائی جنگ کے دوران عالمی ادارہ اقوام متحدہ میں پنڈت نہرو کی تجاویز نے 1953 کی جنگ بندی معاہدہ کی راہ ہموار کی۔ اس کے ساتھ ساتھ 1956 کے نہر سوئز بحران کے دوران بھی پنڈت جواہر لال نہرو نے جمال عبدالناصر کا بھرپور ساتھ دیا اور مصر کے خلاف برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کی سخت مذمت کی۔ پنڈت جی نے اسے نوآبادیاتی نظام کی واپسی قرار دیا۔ ساتھ ہی مصر کی خودمختاری کے تحفظ اور اس کی بحالی میں غیرمعمولی مدد کی۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی شاندار و ناقابل فراموش سفارتکاری کی ایک اور مثال 1960 کی دہائی کا کانگو بحران ہے۔ اس بحران کے دوران ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں امن قائم رکھنے کی کارروائیوں میں حصہ لیا جبکہ پس پردہ نہرو نے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی کے باوجود اقوام متحدہ کی قیادت کے خاتمہ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔
مکہ دفاعی معاہدہ کے ممکنہ اثرات : 1962 میں کیوبا کے میزائل بحران کے دوران جس نے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان دنیا کو جوہری جنگ کے دہانے پر پہنچادیا تھا اور ہندوستان چین کی جارحیت کو پیچھے ڈھکیلنے کی کوشش کررہا تھا اس دوران بھی پنڈت نہرو پس پردہ فعال رہے اور انہوں نے امریکی صدر جان ایف کینڈی اور سوویت یونین کے وزیراعظم نکیتا خروشیف دونوں سے رابطہ پیدا کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سویت بحری جہاز اپنے ملک واپس ہوگئے۔ آپ کو یہ بھی بتادوں کہ نہروجی کے مخالف بعض سابق سفارتکار جنہوں نے پنڈت نہرو کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مضبوط و طاقتور خارجہ پالیسی اختیار کرنے والے لیڈر کے طور پر پیش کیا جاسکے جبکہ سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کامیاب رہی یا بری طرح ناکامی سے دوچار ہوگئی۔ مودی کو ایک مضبوط خارجہ پالیسی کے حامل لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف سابق سفارتکار موجودہ حالات کے رخ سے بظاہر پریشان دکھائی دیتے ہیں اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آگئی ہے اور سابق سفارتکار و سلامتی کے ماہرین میدان میں کود پڑے ہیں تاکہ مکہ دفاعی معاہدہ کی اہمیت کو کم کرنے اور یہ باور کرنے کی ذمہ داری سنبھال لیں کہ دراصل خطہ میں کچھ ایسا نیا نہیں ہورہا ہے۔ یہ سابق سفارتکار ہندوستان کیلئے اس کے کسی بھی راست یا بالراست اثر کو یکسر مسترد کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس سے بڑھ کر حقیقت سے بعید بات اور کیا ہوگی کہ یہ غلط تصور پھیلایا جائے کہ مکہ دفاعی معاہدہ صرف مغربی ایشیا تک محدود ہے اور جنوبی ایشیاء پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا یعنی ہنوز دلی دوراست والا معاملہ ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ کے ممکنہ اثرات کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے صرف اس کے پس منظر پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ حقائق سب کے سامنے موجود ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ کا جہاں تک سوال ہے ابتداء میں اس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ شامل تھے۔ اب اس میں مصر، شام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک بھی شامل ہونے والے ہیں۔ دوسری طرف مملکت سعودی عرب نے ترکیہ سے ڈرونس خریدنے سے بھی اتفاق کیا اور پھر ان تینوں ملکوں نے بعد میں 7 اگست 2026ء کو مکہ دفاعی معاہدہ کے ذریعہ ہاتھ ملا لیا۔ اسی طرح اس معاہدہ کے چند دن بعد پاکستان اور کویت نے فوجی تعاون و اشتراک، تربیت اور سرحدی انتظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔ ان تمام حالات کا جائزہ لینے پر یہ کہا جاسکتا ہیکہ مکہ دفاعی معاہدہ کی اہمیت کو کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بنیادی طور پر یہ صرف رسمی ڈھانچہ فراہم نہیں کرتا بلکہ اس میں اعلیٰ سطحی عملی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اس کے تحت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک مستقل سکریٹریٹ قائم کرنے اور کسی پاکستانی کو اس کا سکریٹری جنرل مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں، خفیہ و حساس معلومات کے تبادلہ، کارروائیوں کی منصوبہ بندی، ٹکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ و متحدہ طور پر آلات حربی (جنگی سازوسامان) کی تیاری سے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ یہاں ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ میں شامل سعودی عرب ایک دولتمند اور خوشحال ملک ہے جو تیل کی دولت سے مالامال ہے جبکہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے۔ اسی طرح ترکیہ کو اس بات کا اعزاز حاصل ہیکہ NATO کی دوسری سب سے بڑی فوج ترکیہ کی ہے۔ آخری لیکن اہم بات یہ ہیکہ جنوبی ایشیاء کا جغرافیائی، سیاسی منظرنامہ دیکھا جائے تو وہ بنیادی طور پر تبدیل ہوچکا ہے۔ مشرق میں بنگلہ دیش، شمال میں چین اور مغرب میں پاکستان کی موجودگی مودی حکومت کیلئے کوئی خوش آئند تصویر پیش نہیں کرتی۔ بہرحال مکہ معاہدہ مودی حکومت کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں مغربی ایشیاء میں ہندوستان کئی دوستوں سے محروم ہونے کے خطرہ تک پہنچ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم پی وی نرسمہاراؤ نے Look East policy اپنائی تھی اس کے برعکس مودی نے Look West Policy کو اپنایا اور اسرائیل سے قربت کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔