محکمہ فینانس کی کارروائی، محکمہ اقلیتی بہبود کی بے بسی
محمدمبشرالدین خرم
حیدرآباد۔14جون۔محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں کی تباہی اب تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ تک پہنچ چکی ہے اور دونوں ہی اہم ترین مساجد میں برسر خدمت ملازمین کو ریاستی محکمہ فینانس نے آؤٹ سورسنگ ملازمین میں تبدیل کردیا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود منہ دیکھتا رہ گیا۔ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست کے منادر میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو سرکاری ٹریژری سے تنخواہوں کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود میں نااہل اور غیر ذمہ دارعہدیداروں کے سبب تاریخی مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خدمات کو ماہ مئی سے آؤٹ سورس کردیا گیا ہے۔ماہ مئی کی تنخواہیں جو ان مساجد میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو جاری کی جانی ہے وہ اب حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ اس ایجنسی کے ذریعہ ادا کی جائے گی جس ایجنسی کے تحت انہیں ملازم قرار دیا جائے گا۔محکمہ فینانس نے 24 مئی 2022کو جاری کردہ جی او ایم ایس نمبر 1042 کے تحت مکہ مسجد میں خدمات انجام دینے والے 23 ملازمین اور شاہی مسجد باغ عامہ میں خدمات انجام دینے والے 7 ملازمین کی خدمات کو محکمہ سے برخواست کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی ایجنسی کے حوالہ کرنے اور ان کے ذریعہ تنخواہوں کی اجرائی کے احکام جاری کردیئے ہیں اور محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کئے گئے اس جی او کو ملازمین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے چھپا کررکھنے کی کوشش کی جاتی رہی تاکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے مشیر اور عہدیداروں کی ناکامی کو پوشیدہ رکھا جاسکے۔ریاستی حکومت کے محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران دونوں مساجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا تیقن دیئے جانے کے بعد یکم نومبر 2021کو محکمہ فینانس نے محکمہ اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دونوں مساجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے ملازمت کے قواعد تیار کرتے ہوئے روانہ کرنے کی خواہش کی تھی لیکن سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود‘ ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کو مسلسل اس معاملہ میں توجہ دہانی کے باوجود ان عہدیداروں کی جانب سے ملازمت کے قواعد کی تیاری کے سلسلہ میں طلب کردہ تفصیلات موصول نہ ہونے کے سبب محکمہ فینانس نے دونوں مساجد کے ملازمین کی خدمات کو تھرڈ پارٹی کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ فینانس نے اس سلسلہ میں اقلیتی امور کے ذمہ داروں سے مسلسل تفصیلات طلب کیں لیکن عہدیداروں کی غیر ذمہ داری اور عدم دلچسپی کے سبب دونوں مساجد کے ملازمین کو حاصل کنٹراکٹ ملازم کا درجہ بھی اب ختم ہوچکا ہے اور انہیں آؤٹ سورسنگ ملازمین کے طور پر خدمات انجام دینی ہوگی۔حکومت تلنگانہ جو ریاست کے منادر میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو سرکاری ملازمین کے طور پر قبول کرتے ہوئے انہیں سرکاری ملازمین کی طرح تنخواہ جاری کر رہی ہے اسی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی دو مساجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے میں عدم دلچسپی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی ان کے اداروں کے استحکام کی کسی کو دلچسپی ہے ۔تاریخی مکہ مسجد میں خدمات انجام دینے والے عملہ میں 1خطیب‘ 2امام‘ 2مؤذن‘1سپرنٹنڈنٹ‘1منیجر‘ 1اسٹور کیپر‘ 1 الیکٹریشن ‘ 1الیکٹریکل الیکٹریشن ‘ 1 آفس سب آرڈیننٹ‘ 2چوکیدار ‘ 2فراش‘4جاروب کش ‘ 4کاماٹی شامل ہیں جبکہ شاہی مسجد باغ عامہ میں 1خطیب‘ 1مؤذن‘ 1 نگران کار‘ 2 فراش اور 2کاماٹی ہیں جن کی خدمات کو آؤٹ سورس کردیا گیا ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارجو مسلمانوں کے کاز کے چیمپئن اور خود کو ملت کے بہی خواہ کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ دراصل تشہیر میں مصروف اپنی خدمات شہرت کے ذریعہ باقی رکھنے کے عادی بن چکے ہیں اورحکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کی رہبری اور رہنمائی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف ہیں جبکہ ان کی عدم دلچسپی کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود دونوں مساجد کے 30ملازمین کی خدمات جو کنٹراکٹ کے اساس پر تھیں جنہیں حکومت کے وعدہ کے مطابق باقاعدہ بنایا جانا تھا ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے بجائے انہیں تھرڈ پارٹی کے حوالہ کرتے ہوئے آؤٹ سورس کردیا گیا ہے جو کہ ان عہدیداروں کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے جو ملت کے ہمدرد بنتے ہوئے ان کے درمیان رہ کر انہیں نقصان پہنچا رہے ہیں ۔24 مئی کو محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کئے گئے جی او کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار تفصیلات کے افشاء پر معطلی اور خدمات سے برخواستگی کی دھمکی دے رہے ہیں اسی لئے وہ تفصیلات نہیں دے سکتے لیکن نمائندہ سیاست نے جن دستاویزات تک رسائی حاصل کی ہے ان کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداراس پورے عمل کی ذمہ داری ضلعی عہدیداروں پر عائد کرتے ہوئے اپنے دامن کو جھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔