مکہ مسجد و شاہی مسجد کا عملہ ماہ رمضان کے خصوصی مشاہرہ سے بھی محروم

   

تراویح میں قرآن مجید سنانے کا اعزازیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ حکومت کا ناروا سلوک
حیدرآباد۔8جولائی (سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک میں مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کو جاری کیا جانے والا اعزازیہ و خصوصی مشاہرہ ماہ مقدس میں تراویح میں قرآن مجید سنانے کی رقومات جاری کرنے بھی محکمہ اقلیتی بہبود میں رقم موجود نہیں ہے! محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار جو کسی بھی اسکیم پر عمل کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہتے ہیں کہ حکومت سے بجٹ جاری نہیںکئے جانے سے اسکیم پر عمل نہیں ہورہا ہے لیکن ماہ رمضان کیلئے حکومت سے خصوصی بجٹ کی اجرائی ہوتی ہے لیکن اس بجٹ کو کہاں خرچ کیا گیا اس کے متعلق جواب دینے کوئی تیار نہیں ہے کیونکہ مکہ مسجد و شاہی مسجد عملہ کو ماہ رمضان المبارک کا خصوصی مشاہرہ اب بقر عید کیلئے ایک دن باقی رہ گیا ہے اب تک جاری نہیں کیا گیا ۔ مکہ مسجد میں ماہ رمضان کے دوران نماز تراویح میں قرآن مجید سنانے والے آئمہ کو ان کا مشاہرہ جاری نہ کیا جانامحکمہ اقلیتی بہبود اورحکومت سے دونوں مساجد کے عملہ کو رسواء کرنے کے مترادف ہے۔محکمہ کے تحت دونوں مساجد کے عملہ کو ماہ رمضان کے خصوصی مشاہرہ اور اعزازیہ کی اجرائی کیلئے مسلسل تین ماہ سے متوجہ کیا جا رہاہے لیکن عہدیدار کرخت لہجہ میں جواب دیتے ہیں ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت سے رقم کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے تو وہ کہاں سے یہ رقومات جاری کریں!مکہ مسجد کے عملہ میں جہاں خطیب و امام کے علاوہ مؤذنین بھی شامل ہیں اور مسجد کے تقدس کی حفاظت کرنے والے جاروب کش بھی قابل قدر ہیں لیکن ان کے ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود کے رویہ کے بعد بعض ملازمین کا کہناہے کہ وہ حکومت کی بے اعتنائی سے عاجز ہیں اور اپنی ضروریات کیلئے چندہ وصول کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ مصلیان مکہ مسجد نے کہا کہ اگر حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کو مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عامہ کے امور نہیں سنبھالنے ہیں تو دونوں مساجد اور ان کے عملہ سے اپنی برأ ت کا اعلان کردیں ۔ حیدرآباد کے مسلمان ان دونوں تاریخی مساجد کی نگہداشت کی ذمہ داری از خود ہی سنبھال لیں گے۔مکہ مسجد کے عملہ نے بھی بتایا کہ سابق میں ماہ رمضان المبارک کے خصوصی مشاہرہ اور اعزازیہ کی اجرائی شب قدر سے قبل عمل میں آتی تھی لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد سے یہ روایت تبدیل ہوچکی ہے اور اس مرتبہ ماہ رمضان کا اعزازیہ بقر عید تک بھی جاری نہیں کیا گیا جو کہ افسوسناک ہے۔م