مہاراشٹر:اگر وزیراعلیٰ اسپیکر کے انتخاب میں گورنر کو مشورہ دیں تو غلط کیا ہے؟ ہائی کورٹ کا بی جے پی رکن اسمبلی سے سوال

   

ممبئی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بی جے پی کے ایم ایل اے گریش مہاجن اور ایک اور عرضی گزار سے کہا کہ وہ وضاحت کریں کہ کیا ریاستی قوانین چیف منسٹر کو مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بارے میں گورنر کو مشورہ دینے کا بندوبست کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو آئینی طور پر اس میں غلط کیا ہے؟چیف جسٹس دیپانکر دت اور جسٹس ایم ایس کارنک کی بنچ نے کہا کہ عرضی گزار، مہاجن اور جنک ویاس جنہوں نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے الگ الگ مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی ہیں، وہ بتائیں کہ یہ آئینی اصولوں کی کیسے خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔ بنچ نے درخواست گزاروں سے یہ بھی پوچھا کہ عدالت قانون سازی کے عمل میں مداخلت کیوں کرے۔عدالت نے کہا کہ کیا آئین وزیر اعلیٰ کو وزراء کی کونسل کی مدد کے بغیر گورنر کو مشورہ دینے سے روکتا ہے؟ وزیر اعلیٰ کے ایسے مشورے دینے میں کیا حرج ہے؟ آخر وزراء کی کونسل بھی وزیر اعلیٰ کی سفارشات پر تشکیل دی جاتی ہے۔