مہاراشٹرا کے بعد تلنگانہ ……… ؟ ارکان اسمبلی کو وقت نہ دینے کی شکایت عام ۔ بی جے پی بھی سرگرم

   

حیدرآباد 23 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے کو باغی ارکان اسمبلی کا مکتوب چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کیلئے بھی نوشتۂ دیوار ثابت ہوسکتا ہے! مہاراشٹرا میں باغی ارکان نے شکایت کی کہ چیف منسٹر پارٹی ارکان اسمبلی سے ملاقات نہیں کرتے اور انہیں وقت نہیں دیا جاتا جبکہ حلیف جماعتوں کانگریس و این سی پی ارکان اسمبلی چیف منسٹر سے بہ آسانی ملاقات کرسکتے ہیں۔ باغی ارکان کو جو شکایت اپنے چیف منسٹر سے ہے وہی شکایت تلنگانہ میں ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو بھی اپنے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے ہے لیکن ان کی اس شکایت کو چیف منسٹر نظرانداز کر رہے ہیں لیکن آج مہاراشٹرا ارکان اسمبلی کے مکتوب نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی آنکھ کھول دی ہے ۔ چیف منسٹر چندرشیکھرراؤ کو اپوزیشن کی جانب سے ’فارم ہاؤز ‘ چیف منسٹر قرار دیا جاتا ہے تو دوسری جانب فارم ہاؤز میں چیف منسٹر کا قیام ہویا وہ پرگتی بھون میں رہیں پارٹی ارکان اسمبلی تو کیا بغیر ان کی مرضی کے وزراء بھی ملاقات نہیں کرسکتے۔ حکومت میں شامل وزراء جو مختلف وجوہات اور امور پر تبادلہ خیال کیلئے چیف منسٹر سے ملاقات کو کوشش کرتے ہیں انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چیف منسٹر کے اس رویہ سے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی میںبھی ناراضگی ہے اور وہ اس کا متعدد مرتبہ اظہار بھی کرچکے ہیں بلکہ ملاقات کی کوششوں میں ناکامی کے بعد بیشتر ارکان اسمبلی و کونسل نے کوشش ہی بند کردی ہے ۔ ٹی آر ایس کے بیشتر منتخبہ عوامی نمائندوں میں یہ احساس پایا جانے لگا ہے کہ چیف منسٹر کے اطراف مخصوص حلقہ ہوتا ہے اور ان کے علاوہ چیف منسٹر سے ملاقات کی کوشش کرنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کو باغی ارکان کے مکتوب میں ملاقات کیلئے وقت نہ دینے کی شکایت کے بعد ٹی آر ایس ارکان اسمبلی بھی اس پر گفتگو کرنے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مہاراشٹرا میں شائد چیف منسٹر سے ارکان اسمبلی سیکریٹریٹ میں ملاقات کرلیا کرتے تھے لیکن تلنگانہ میں چیف منسٹر تو صرف کیمپ آفس سے حکومت چلارہے ہیں ۔ اس صورتحال میں کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی بھی ریاست کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں تیز کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ م