مہاکمبھ بھگدڑ میں اموات پرسپریم کورٹ میں آج سماعت

,

   

یاتریوں کی حفاظت کیلئے مناسب انتظامات اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی: پریاگ راج کے مہاکمبھ میں بھگدڑ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق اس درخواست کو 3 فروی کی سماعت کیلئے درج کر لیا گیا ہے۔ درخواست میں عقیدت مندوں کی حفاظت کیلئے ہدایت دینے اور قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 29 جنوری کو مہاکمبھ بھگڈر میں کم ازکم 30 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور دیگر 60 زخمی ہو گئے تھے۔پیر کو چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ اس درخواست کی سماعت کرے گی جس میں بھگڈر کے واقعات کو روکنے اور زندگی کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ علاوہ درخواست میں مرکز اور تمام ریاستوں کو فریق بناتے ہوئے مہاکمبھ میں عقیدت مندوں کیلئے محفوظ ماحول بنانے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے کی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں کو سیکیورٹی سے متعلق معلومات فراہم کرانے اور ہنگامی حالات میں اپنے رہائشیوں کی مدد کے لیے پریاگ راج میں سہولتی مراکز قائم کیے جانے چاہیے۔ ساتھ ہی عقیدت مندوں کی مدد کیلئے کئی زبانوں میں سائن بورڈ لگانے اور اعلانات کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان ہلپ لائن مراکز کو اپنی ریاستوں سے آنے والے لوگوں کی حفاظت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ہنگامی صورتحال میں یہ مراکز کسی بھی مدد کے لیے تیار رہیں۔ علاوہ ازیں لوگوں کو سیکیورٹی پروٹوکول کے بارے میں ایس ایم ایس اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ جانکاری دی جانی چاہیے۔قابل ذکر ہے کہ مفاد عامہ کی اس عرضی میں یہ ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وی آئی پی موومنٹ سے عام عقیدت مندوں کی سیکیورٹی متاثر نہ ہو، ان کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہ ہو اور مہاکمبھ میں عقیدت مندوں کے داخل ہونے اور نکلنے کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ فراہم کی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں عرضی میں اترپردیش حکومت کو 29 جنوری کو مہاکمبھ میں ہوئے حادثے پر اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے اور لاپرواہی برتنے والے افراد اور عہدیداروں کے خلاف قانونی کارراوئی شروع کرنے کی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔