12 دنوں میں چوتھا جھٹکہ، فی کیلو 102 کے پار، عوام کا برا حال، تیل کمپنیوں کی مسلسل لوٹ مار
حیدرآباد۔ 26 مئی (سیاست نیوز) ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگی آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ منگل کو عام آدمی متوسط طبقے اور گاڑی چلانے والوں پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ مسلط کردیا گیا ہے۔ پٹرولیم کمپنیوں نے پیر کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے فوری بعد اب کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئیل مارکٹنگ کمپنیوں کے تازہ اعلان کے مطابق سی این جی کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے فی کیلوکا بھاری اضافہ کردیا گیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ گزشتہ محض 12 دنوں کے اندر سی این جی کی قیمتوں میں یہ چوتھا اضافہ ہے جس نے پٹرول اور ڈیزل کے متبادل کے طور پر گیس استعمال کرنے والے کیاب ڈرائیورس، آٹو ڈرائیورس اور مڈل کلاس شہریوں کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیا ہے ۔ گزشتہ 15 مئی سے اب تک یعنی صرف بارہ دنوں میںایک کیلو سی این جی پر مجموعی طور پر 6 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد تلنگانہ میں اب ایک کیلو سی این جی کی قیمت بڑھ کر 102 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں قدرتی گیس کی سپلائی لاگت میں اضافہ کی وجہ سے ہندوستانی تیل کمپنیاں قیمتوں میں یہ تبدیلیاں کررہی ہیں جس کا اثر براہ راست غریبوں کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے پہلے ہی حمل و نقل کے اخراجات بڑھ چکے ہیں اور مارکیٹ میں تمام اشیائے ضروریہ مہنگی ہوچکی ہیں۔ ایسے کٹھن حالات میں سی این جی کا مہنگا ہونا ان کیاب اور آٹو ڈرائیورس کیلئے بڑا دھکہ ہے جنہوں نے پٹرول کی گرانی سے بچنے اپنی گاڑیوں میں لاکھوں روپے خرچ کرکے سی این جی کٹس لگوائے تھے۔ اگر ایندھن کی قیمتوں کا یہ گراف اسی طرح بڑھتا رہا تو پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے مزید بڑھیں گے جس کا آخری بوجھ عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ 2؍F k/b/