حیدرآباد : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا میئر کسی بھی وارڈ سے مقابلہ کرسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ جس وارڈ سے مقابلہ کررہا ہو اس وارڈ سے ہی اس کا تعلق ہو۔ حالانکہ اس کی ضمانت دینے والے شخص کا تعلق وارڈ سے ہونا ضروری اور اس وارڈ کا ووٹر ہونا لازمی ہے۔ بلدی انتخابات میں مقابلہ کے خواہشمند اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں کے لیے شرائط اور بلدی قوانین کو جاری کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق امیدوار کی عمر 21 سال سے کم نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی اولاد کے تعلق سے جاری تجسس کو ختم کرتے ہوئے الیکشن آفیسر نے کہا کہ دو سے زائد بچوں کے والدین مقابلہ کے اہل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے صاف طور پر بتادیا کہ دو سے زائد بچوں والے ارکان اگر کسی کو گود دے دیں تو اسے بھی اولاد ہی تصور کیا جائے گا یعنی اس گود دی ہوئی اولاد کو بھی گنا جائے گا۔ جبکہ اگر کسی کی اولاد پرچہ نامزدگی سے قبل فوت ہوتا ہے تو فوت ہونے والے بچے کا شمار نہیں کیا جائے گا۔ ایک شہری کو جو امیدواری کا دعویدار ہے اور بیوی کے فوت ہونے کے بعد دوسری شادی کی ہو اور پہلی بیوی سے اور دوسری بیوی سے ہونے والے بچوں کی تعداد اگر دو سے زائد ہوں تو اسے بھی نااہل قرار دیا جائیگا۔ جبکہ اس شخص کی کسی ایک بیوی جس کے دو سے زائد بچے نہ ہوں اسے اہل قرار دیا جائیگا۔ اس کے علاوہ خاتون امیدوار کو دو بچے ہوں اور وہ حاملہ ہو تو مقابلہ کے لیے اہل ہوگی۔ اگر کوئی سرکاری ملازمت (مرکزی یا ریاستی) سے وابستہ ہو اور مقابلہ کرنا چاہتا ہو تو انہیں چاہئے کہ پرچہ نامزدگی کی جانچ سے قبل اپنی ملازمت سے استعفیٰ کا صداقت نامہ پیش کرے۔ الیکشن کمیشن نے آنگن واڑی ورکرس کو بلدی چنائو میں مقابلہ کی اجازت نہیں دی ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے پس منظر میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔ پرچہ نامزدگی کی جانچ کے دوران اگر کسی امیدوار کی دستخط پرچہ پر موجود نہ ہو تو رٹرننگ آفیسر کو پرچہ نامزدگی مسترد کرنے کا اختیار رہے گا۔ فام اے۔ بلدی کمشنر یا پھر رٹرننگ آفیسر کو راست پرچہ نامزدگی کے آخری دن تک دینا ہوگا جبکہ فام بی پرچہ نامزدگی کو واپس لینے کے دن تین بجے تک راست پہونچانا ہوگا۔
ایک امیدوار ایک وارڈ سے مقابلہ کے لیے 4 پرچہ نامزدگیاں داخل کرسکتا ہے۔