٭ ’بھارت رتن‘ لتا منگیشکر کا مختصر علالت کے بعد
بہ عمر 92 سال دیہانت ٭ سرکاری اعزازات کے ساتھ ممبئی میں آخری رسومات ادا کی گئیں
٭ وزیراعظم مودی آخری رسوم میں شریک ہوئے
٭ صدر کووند، نائب نائیڈو، کانگریس لیڈر راہول
ومتعدد دیگر کا خراج عقیدت
ممبئی : لتامنگیشکر کا کئی اعضائے رئیسہ ناکام ہوجانے کے سبب اتوار کو ممبئی کے ہاسپٹل میں 92 سال کی عمر میں دیہانت ہوگیا۔ لتا کی آواز کا ذکر ہوتے ہی جنوبی ایشیا کی کئی نسلوں کیلئے ماضی کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں اور ’بھارت رتن‘ کو ہندوستان کی عظیم شخصیتوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ مشہور و معروف گلوکارہ جن کا نام ممبئی کے بریچ کینڈی ہاسپٹل میں اپنی آخری سانس لینے سے کئی سال قبل ہی لیجنڈ کے طور پر رقم ہوچکا تھا، وہ معمولی علامتوں کے ساتھ کوویڈ سے متاثرہ تشخیص کئے جانے پر 8 جنوری سے ہاسپٹل میں تھیں۔ انہیں نمونیا بھی لاحق ہوگیا تھا۔ لتامنگیشکر کی چھوٹی بہن اوشا منگیشکر نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ اب نہیں رہیں۔ ان کا صبح دیہانت ہوگیا۔ اس طرح خبر کی تصدیق ہوئی کہ ہندوستان کی نہایت معروف اور چہیتی شخصیتوں میں شامل لتامنگیشکر اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ڈاکٹر پی صمدانی جو ہاسپٹل میں لتامنگیشکر کا علاج کررہے تھے، انہوں نے میڈیا والوں کو بتایا کہ لتا دیدی کا کوویڈ کی تشخیص کے زائد از 28 دن بعد ہمہ وجوہات کے سبب صبح 8:12 بجے دیہانت ہوا۔ حکومت نے لتامنگیشکر کیلئے دو روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا۔ لتا کا لگ بھگ 8 دہے طویل کریئر رہا جس میں انہوں نے تقریباً 25,000 گیت لگ بھگ 36 ہندوستانی زبانوں میں گائے، جن میں ہندی، مراٹھی، تامل اور کنڑ شامل ہے۔ انہوں نے کلاسیکل اور دیگر صنف کے کئی گیت گائے۔ اس خبر کی سرخی ان کے مشہور گیت کا مصرعہ ’’میری آواز ہی پہچان ہے، گر یاد رہے‘‘ (فلم ’کنارہ‘)۔ آگے کے مصرعے ،پیار کیا تو ڈرنا کیا (مغل اعظم)، شیشہ ہو یا دل ہو (آشا)، اے پیار تیری پہلی نظر کو سلام (ایک دوجے کے لئے)، آج پھر جینے کی تمنا ہے (گائیڈ) لتا منگیشکر کے نہایت مشہور گیتوں میں سے ہیں۔ لتامنگیشکر کی آخری رسومات شام میں ہی سرکاری اعزاز کے ساتھ ممبئی میں انجام دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ بے شمار فلمی شخصیتیں بشمول امیتابھ بچن شریک ہوئے۔ نئی دہلی میں سرکاری ذرائع نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ریاستی چیف سکریٹریز کو پیام بھیجا جاچکا ہیکہ 6 فبروری سے 7 فبروری تک سارے ہندوستان میں قومی پرچم نصف بلندی پر رہے گا۔ اس مدت میں سرکاری سطح پر کوئی تفریحی پروگرام نہیں ہوگا۔ مشہور گلوکارہ کی میت پہلے ان کی پیڈر روڈ میں واقع قیامگاہ ’پربھوکنج‘ لے جائی گئی اور پھر شیواجی پارک میں پرستاروں کے آخری دیدار کیلئے رکھا گیا۔ اس کے بعد شیواجی پارک میں ہی شام 6:30 بجے آخری رسومات ادا کی گئی۔ لاکھوں یا شاید کروڑوں افراد نے لتا منگیشکر کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں ان کی موسیقی کیلئے یاد کیا۔ ان میں صدرجمہوریہ رامناتھ کووند، نائب صدر وینکیا نائیڈو، وزیراعظم نریندر مودی، صدرکانگریس سونیا گاندھی، کانگریس لیڈر راہول گاندھی، مرکزی وزراء، ریاستی چیف منسٹرس اور متعدد شخصیتیں شامل ہیں۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ لتاجی کا دیہانت ان کیلئے دل شکن ہے جیسا کہ یہ دنیا بھر میں کروڑوں شائقین کیلئے بھی ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ ان کے پاس اپنے غم کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں ہے۔ لتامنگیشکر کو اعلیٰ ترین سیول ایوارڈ ’بھارت رتن‘ کے علاوہ پدم بھوشن، پدم ویبھوشن، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور کئی نیشنل فلم ایوارڈس سے نوازا گیا۔
لتا کے دیہانت پر دنیا بھر کے قائدین کا اظہارتعزیت
نئی دہلی: دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اتوار کو بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا۔سری لنکا کے وزیر اعظم مہندرا راجپکشے نے ٹویٹ کیا،‘ہندوستان کی صدائے سامری، لتا منگیشکر زندہ باد رہیں۔ سرحدوں کو عبور کرنے والے دہائیوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے شکریہ۔ آپ نے کہاوت ‘موسیقی عالمی زبان ہے ’کو مجسم کیا’۔مسٹر راجپکشے نے کہا کہ ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے ساتھ میری تعزیت۔ ان کی یادیں ان کی موسیقی کے ذریعے سے زندہ رہیں گی‘۔پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، ‘ایک عظیم ہستی ہمارے بیچ نہیں رہیں۔ لتا منگیشکر سروں کی رانی تھیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر راج کیا۔ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتی رہے گی۔ خراج عقیدت ’۔ہندوستان اور بھوٹان میں جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر نے ہندی میں منگیشکر کے مشہور نغمے کے جز کو ٹویٹ کیا،‘میری آواز ہی پہچان ہے ،گر یاد رہے۔
…ہندوستان کی صدائے سامری لتا منگیشکر، گلوکارہ اور موسیقی ہنر کی 92 برس کی عمر میں ہو گئی۔ ایک لیجنڈ، ایک ناقابل تلافی آواز اور سات دہائیوں کے لیے موسیقی کا مرکز! بہت افسوسناک خبر، ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ خراج عقیدت لتا منگیشکر جی’۔غور طلب ہے کہ 92 برس کی عمر میں محترمہ لتا منگیشکر کی28 دن تک کورونا سے لڑنے کے بعد ممبئی کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی۔
لتا کے دیہانت پر دنیا بھر کے قائدین کا اظہارتعزیت
نئی دہلی: دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اتوار کو بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا۔سری لنکا کے وزیر اعظم مہندرا راجپکشے نے ٹویٹ کیا،‘ہندوستان کی صدائے سامری، لتا منگیشکر زندہ باد رہیں۔ سرحدوں کو عبور کرنے والے دہائیوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے شکریہ۔ آپ نے کہاوت ‘موسیقی عالمی زبان ہے ’کو مجسم کیا’۔مسٹر راجپکشے نے کہا کہ ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے ساتھ میری تعزیت۔ ان کی یادیں ان کی موسیقی کے ذریعے سے زندہ رہیں گی‘۔پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، ‘ایک عظیم ہستی ہمارے بیچ نہیں رہیں۔ لتا منگیشکر سروں کی رانی تھیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر راج کیا۔ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتی رہے گی۔ خراج عقیدت ’۔ہندوستان اور بھوٹان میں جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر نے ہندی میں منگیشکر کے مشہور نغمے کے جز کو ٹویٹ کیا،‘میری آواز ہی پہچان ہے ،گر یاد رہے۔
…ہندوستان کی صدائے سامری لتا منگیشکر، گلوکارہ اور موسیقی ہنر کی 92 برس کی عمر میں ہو گئی۔ ایک لیجنڈ، ایک ناقابل تلافی آواز اور سات دہائیوں کے لیے موسیقی کا مرکز! بہت افسوسناک خبر، ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ خراج عقیدت لتا منگیشکر جی’۔غور طلب ہے کہ 92 برس کی عمر میں محترمہ لتا منگیشکر کی28 دن تک کورونا سے لڑنے کے بعد ممبئی کے ایک اسپتال میں موت ہو گئی۔