میناکشی نٹراجن کے خلاف سازش میں چیف منسٹر ملوث : کے ٹی آر

   

کانگریس کی انچارج حیڈرا انہدامی کارروائی کے خلاف تھیں، رنجش کا بدلہ لیا گیا
حیدرآباد ۔13 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے تلنگانہ کانگریس کی اندرونی سیاست، حیڈرا کی انہدامی کارروائی اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بار پھر سنسنی خیز ریمارکس کیا۔ ویملواڑہ کے دورہ کے موقع پر پارٹی کارکنوں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ کانگریس انچارج میناکشنی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی کو مسترد کروانے کے پیچھے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی سازش ہے کیونکہ دونوں کے درمیان ہائیڈرا کے تحت غریبوں کے مکانات مسمار کئے جانے پر شدید تنازعہ چل رہا تھا۔ کے ٹی آر نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میناکشی نٹراجن کے خلاف پرانی رنجش کا بدلہ لینے کیلئے ان کی راجیہ سبھا کی نامزدگی کو منسوخ کروایا۔ انہوں نے سنگین الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے خود بی جے پی کو میناکشی نٹراجن کے خلاف ایک ایسے کیس کے بارے میں مطلع کیا جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا تاکہ ان کی نامزدگی کو تکنیکی طور پر مسترد کروایا جاسکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو شحص اپنی ہی پارٹی کے قائدین کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا وہ ریاست کے عوام کے ساتھ کیا انصاف کرے گا۔ 6 ضمانتوں کے وعدوں کو برفدان کی نذر کردینے پر کے ٹی آر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن وعدوں کے ذریعہ کانگریس پارٹی نے اقتدار حاصل کیا ان وعدوں کو پورا کرنے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی ناکام ہیں۔ اپنی ناکامی کو خزانہ خالی ہونے اور سابق بی آر ایس حکومت پر ریاست کو مقروض کردینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ذمہ داریوں سے فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ 2/A/b
انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے اگر قرض لیا ہے بھی تو پینشن کی رقم کو 200 سے بڑھا کر 2000 روپئے کردیا۔ ریتو بندھو اسکیم کے تحت 10 برسوں کے دوران کسانوں کے بنک کھاتوں میں 73,000 کروڑ روپئے منتقل کئے۔2