کے سی آر کے ریمارکس سے سیاسی حلقوں میں ہلچل
حیدرآباد۔17۔اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے امبیڈکر جینتی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کے دوران زبانی لغزش سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ۔ کے سی آر اپنی جذباتی تقاریر کے دوران زبانی لغزش کے ذریعہ کافی شہرت رکھتے ہیں۔امبیڈکر مجسمہ کی نقاب کشائی کے بعد خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے ایک مرحلہ پر کہہ دیا کہ میں تلنگانہ چھوڑ کر جارہا ہوں۔ چیف منسٹر دراصل تشکیل تلنگانہ سے قبل نئی دہلی روانگی کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ متحدہ آندھراپردیش سے دہلی جارہے ہیں اور وہ دوبارہ تلنگانہ میں قدم رکھیں گے ۔ چیف منسٹر نے تقریر میں آندھراپردیش کہنے کی بجائے کہا کہ میں تلنگانہ سے جارہا ہوں۔ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے تصحیح کرلی لیکن سیاسی حلقوں میں ان کا یہ جملہ بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ بی آر ایس سرگرمیوں کے سلسلہ میں مختلف ریاستوں کے دورہ کے پیش نظر کے سی آر نے یہ جملہ ادا کیا جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ کے سی آر اپنی شکست کو تسلیم کرچکے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ کے ٹی آر ، ریونت ریڈی اور بنڈی سنجے کے درمیان ہوگا ۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر آئندہ اسمبلی انتخابات میں کے ٹی آر کے چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر عوام میں پیش کریں گے اور خود قومی سیاست میں حصہ لینے کیلئے نئی دہلی میں قیام کریں گے۔ر