می سیوا مراکز میں بدعنوانیوں کا فروغ ، جعلی اسناد کے مراکز میں تبدیل

   

31 ہزار صداقت نامہ پیدائش و موت کو منسوخ کرنے جی ایچ ایم سی کا فیصلہ
حیدرآباد۔6۔مارچ(سیاست نیوز) می سیوا مراکز بدعنوانیوں کو فروغ دینے اور جعلی اسنادات کے مراکز میں تبدیل ہونے لگے ہیں! مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے حالیہ عرصہ میں 31ہزار صداقتنامہ موت و پیدائش کو منسوخ کردیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ دستاویزات کی تیاری اور دیگر امور کے لئے صداقتنامہ پیدائش اور اموات کی اجرائی کے سلسلہ میں می سیوا مراکز کے ذریعہ درخواستوں کے ادخال اور ان کی اجرائی کے اختیار دیئے جانے کے بعد جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان کے منظر عام پر آنے کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے مجموعی اعتبار سے مارچ2022 تا ڈسمبر2022کے دوران جاری کئے گئے زائد از 31ہزار ان صداقتناموں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے انہیں تنقیح کے لئے موصول ہونے والے صداقتناموں کے ریکارڈس دستیاب نہ ہونے کے سبب یہ فیصلہ کیا ہے اور ان صداقتناموں کی تنقیح کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ می سیوا مراکز پر داخل کی گئی درخواستوں اور وہاں سے جاری کئے گئے صداقتناموں کے سبب یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ آدھار کارڈ کی تیاری ‘ لائسنس کی تیاری ‘ پاسپورٹ کے علاوہ دیگر امور کے لئے صداقتنامہ پیدائش اور انشورنس کے ادعا جات ‘ جائیداد کی تقسیم کے علاوہ دیگر معاملات میں صداقتنامہ اموات انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کی اجرائی جی ایچ ایم سی کی جانب سے ریکارڈس کا جائزہ لینے کے بعد کی جاتی ہے لیکن مارچ 2022 تا ڈسمبر 2022 کے دوران می سیوا مراکز سے جاری کئے گئے صداتناموں کی تنسیخ کا فیصلہ اسی لئے کیا گیا ہے کیونکہ اس مدت میں من مانی صداقتناموں کی تیاری عمل میں لائی گئی ہے اور دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں جاری کئے گئے ان صداقتناموں کے سلسلہ میں چیف سیکریٹری تلنگانہ مسز سانتی کماری کی جانب سے برہمی کا اظہار کئے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔چیف سیکریٹری نے جائزہ اجلاس کے دوران جی ایچ ایم سی عہدیداروں پر بغیر تنقیح کے ان صداقتناموں کی اجرائی کے معاملہ میں شدید برہمی کا اظہار کیا جس پر بلدی عہدیداروں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ کاروائی انجام دی ہے۔ بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں شہروں میں درمیانی افراد کے ذریعہ صداقتناموں کی تیاری کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے قائم کئے گئے ان مراکز پر بھی درمیانی افراد کا راج ہے اور شہری اپنی سہولت کے لئے اضافی رقومات ادا کرتے ہوئے یہ اسناد و صداقتنامہ جات کی تیاری کروارہے ہیں جو ان کے لئے بہتر نہیں ہے۔م