روش کمار
چین ہندوستان کا بلاشبہ دشمن نمبر ون ہے لیکن کیا ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے چین کو اور اس کی قیادت کو اس دشمنی کے خلاف کبھی انتباہ دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُنھوں نے کبھی بھی چین کو دھمکی یا انتباہ نہیں دیا۔ ویسے بھی کیا آپ کو پتہ ہے کہ اروناچل پردیش کی سرحد پر الگ الگ مقامات پر چین کے ساتھ ماہ جولائی سے جھڑپ کا سلسلہ جاری ہے اور اب بھی جاری ہے۔ پاکستان کے ساتھ سرحد پر ذرا سی جھڑپ ہوتی ہے تو گودی میڈیا طوفان مچا دیتا ہے، کئی دنوں کا کوریج شروع کردیتا ہے اور اروناچل پردیش کی سرحد پر ماہ جولائی سے چین کے ساتھ جھڑپ چل رہی ہے، اس کی خبر ملک کو لگنے بھی نہیں دیتا، تب بھی نہیں جب ITBP کے سربراہ کے مطابق آئی ٹی بی پی کے جوان بہادری سے چین کا مقابلہ کررہے ہیں۔ ملک اور شہریوں کو اس بات کا پتہ تو لگنا چاہئے کہ ہمارے جوان کس طرح سے چین کا سامنا کررہے ہیں، ان کی بہادری کی خبر بھی غائب کی جاسکتی ہے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے حکومت کی تبدیلی کا بھوت نچایا جاتا ہے کہ کانگریس اور کاکروچوں کے احتجاجی مظاہروں کے پیچھے بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں بیرونی طاقت کا پتہ گودی میڈیا اور بی جے پی کو چل جاتا ہے مگر ہندوستان کی سرحد پر بیرونی طاقت دراندازی کررہی ہے، ITBP کے جوان مستعدی سے اس کا مقابلہ کررہے ہیں اس کا پتہ نہیں چل پاتا۔ کانگریس نے اس معاملہ میں جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔ اس کے ترجمان پون کھیرا کا کہنا ہے کہ چین کے جو کھلونے ہوتے ہیں پوری دنیا میں ان کی اچھی فروخت ہے۔ ہمارے ملک میں بھی ایک چینی کھلونا ہے ’’56 آگے نہیں کہوں گا‘‘۔ 56 کا کھلونا ہمارے ملک میں ہے، اس کی چابی کئی ملکوں کے پاس ہے۔ چین کے پاس، اسرائیل کے پاس، امریکہ کے پاس اور پتہ نہیں کئی ملکوں کے پاس ہمارے اس کھلونے کی چابی ہے۔
اگر ITBP کے ڈائرکٹر جنرل شترو جیت کپور نے الور میں اپنے جوانوں سے بات چیت میں یہ نہیں کہا ہوتا تو اس ملک کو اس کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ چین کے ساتھ ٹکراؤ چل رہا ہے۔ ITBP کے سربراہ ہیم ویر سمان سمارو میں جوانوں سے خطاب کررہے تھے جس بہادر کمانڈر پلاٹون کی بات کررہے تھے اس کا اس سال مارچ میں قیام عمل میں آیا کیوں کہ چین مسلسل دراندازی کی کوشش کررہا ہے اُسے روکنے کے لئے ایک خصوصی فورس بنائی گئی ہے۔ سارے سوشل میڈیا پر شتروجیت کپور کا ویڈیو وائرل ہے، آپ ٹوئٹر پر جائیں گے تو ان کا بیان مل جائے گا۔ کانگریس پارٹی کے ٹوئٹر پر بھی ان کا ویڈیو ہے لیکن اپنے ہی سربراہ کا خطاب ITBP کے ٹیوٹر ہینڈل پر نہیں ہے جبکہ الور کے اس پروگرام میں شترو جیت کپور نے چین کے ساتھ جھڑپ کی بات قبول کی ہے۔ اس پروگرام کی تصاویر ہیں لیکن ویڈیو نہیں ہے۔ یہ حالت ہوگئی ہے اتنی بڑی فورس کے سربراہ کی کہ اُن کا خطاب یا تقریر غائب کرنی پڑرہی ہے۔ اگر چیف کا خطاب ہی غائب ہورہا ہے یا سوشل میڈیا ہینڈل پر نہیں ڈالا جائے گا اس سے جوانوں کے حوصلوں پر کیا اثر پڑے گا کہ ان کے سربراہ کا خطاب غائب ہے۔ ITBP کو پورا خطاب خود سے ڈالنا چاہئے۔ اس پروگرام میں شترو جیت کپور نے کہاکہ ابھی پیچھے اروناچل پردیش کے اندر ایک صورتحال ایسی بنی کہ کئی جگہ آمنا سامنا ہوا جو ابھی بھی چل رہا ہے وہاں پر ہماری جو خصوصی کمانڈوز کی ٹیمیں ہیں اُنھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ یہ خبر کیوں بڑی ہے اس لئے کہ اگست کے ماہ میں بھی اُسی علاقہ سے چین کے ساتھ ٹکراؤ کی خبریں آئی تھیں۔ جس علاقہ کی بات ITBP کے سربراہ شتروجیت کپور کررہے ہیں تب اروناچل پردیش کے چیف منسٹر پیما سنگھ کھانڈو نے کہاکہ ہمیں نہیں لگتا کہ اس طرح کی دراندازی ہوئی ہے کیوں کہ اس علاقہ میں تعینات ہندوستانی فوج اچھی طرح نگرانی کررہی ہے۔ تاسکنگ کے مقامی لوگوں کی تنظیم (NWS) NAH Welfare Society نے چینی دراندازی اور جھڑپ کی بات کہی تھی جس سے اروناچل پردیش کے چیف منسٹر نے صاف صاف انکار کردیا اور کہاکہ ان کی حکومت زمینی حالات کا جائزہ لے گی تو کیا اس جائزہ کے بعد بھی پتہ نہیں چلا کہ ان کی ریاست کے سرحدی علاقہ میں چین کے ساتھ ITBP کے جوان نبرد آزما ہیں۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق فوج نے بھی اس طرح کے ٹکراؤ سے اگست کے ماہ میں انکار کیا تھا۔ کیا اروناچل پردیش کے چیف منسٹر نے ملک سے جھوٹ کہا۔ اروناچل پردیش سے رکن پارلیمنٹ ہیں کرن رجیجو، پارلیمانی اُمور کے وزیر ہیں۔ بی جے پی اور مودی حکومت کے اہم لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ اُنھوں نے اس جھڑپ کو لے کر کچھ کہا ہے ان کا کوئی بیان یاد آرہا ہے؟ میں یاد دلاتا ہوں۔ 19 اگست 2026ء کو کرن رجیجو نے خبررساں ایجنسی IANS اور PTI سے کہاکہ اروناچل پردیش میں چین کے ساتھ ٹکراؤ کی خبریں غلط ہیں۔ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد کے تنازعہ سنگین موضوع ہیں۔ اسے لے کر جھوٹے دعوے مت کیجئے۔ کرن رجیجو نے کہا لیکن آئی ٹی بی پی کے سربراہ تو کہہ رہے ہیں کہ جولائی سے ہی چین کے ساتھ جھڑپیں چل رہی ہیں اور حال میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں تو کیا وزیر پارلیمانی اُمور نے بھی ملک سے جھوٹ کہا۔ اروناچل پردیش کے چیف منسٹر اور اروناچل سے ہی رکن پارلیمنٹ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اپنے بیان میں ایک عام بات کہی کہ مقامی تنظیموں کی تشویش پر ہم پہل کریں گے۔ ان کی فکر مندی کیا تھی جان لیجئے۔ 30 جون کو یہ خبر انڈین اکسپریس میں شائع ہوئی ہے کہ اروناچل پردیش سے صحافی پریتا بروا رپورٹ کرتی ہیں کہ بالائی علاقہ تاکسنگ میں چینی کیمپ بنائے جانے کی خبریں ہیں جہاں پر یہ کیمپ بنے ہیں وہ ہندوستان کا علاقہ ہے۔ اس بارے میں NAH ویلفیر سوسائٹی نے ڈپٹی کمشنر کو لکھا ہے کہ چینی حکومت اب اپنے علاقہ کو تیزی سے بڑھارہی ہے اور سرحد کے پاس ہماری زمین کے کئی علاقوں پر قبضہ کررہی ہے۔ سرحد پر ہمارے آبا و اجداد کی زمینات پر چین نے سڑک،پُل اور فوجی کیمپس بنالئے ہیں۔ جس زمین پر ہمارے مویشی چارہ چرتے تھے وہ بھی چین کے قبضہ میں چلی گئی۔ اس مکتوب کے جواب میں اروناچل پردیش کے وزیرداخلہ مامانتونگ نے کہاکہ حکومت ایک کمیٹی بناکر ان دعوؤں کی جانچ کرے گی، اتنی بڑی خبر دبادی گئی، نظرانداز کردی گئی۔ گودی میڈیا کی ٹیم ان علاقوں میں جاسکتی تھی۔ عوام کے پیسوں سے اس کو کروڑوں روپئے کے اشتہار ملتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کیسے ہزار کروڑ روپیوں کا اشتہار مل رہا ہے اور ان کے پروگرامس کیسے ہوتے ہیں تقریباً زیرو بجٹ والے لوگوں کو بٹھاکر فالتو کی بحث کرائی جاتی ہے۔ کیا عوام کے پیسے سے ہزاروں کروڑ روپیوں کا اشتہار لینے والا گودی میڈیا ان علاقوں میں جاکر وہاں سے جانچ پڑتال کرکے آپ کو صحیح خبر بتا پایا۔ نوجوانوں کو پیٹنے میں دھروندر حکومت چین کے آگے بزدل حکومت اس نعرہ کے ساتھ کانگریس رکن پارلیمنٹ پون کھیرا نے آئی ٹی بی پی کے سربراہ کے بیان پر پریس کانفرنس کی۔ پون کھیرا نے کہاکہ مودی حکومت نہ تو بہادروں کو شاباشی دیتی ہے نہ ان کی شہادت کو سلام کرتی ہے۔ 2020ء میں گلوان کا واقعہ پیش آیا تو ہمارے 20 بہادر شہید ہوئے لیکن کیا جواب آیا نہ کوئی گھسا ہے نہ گھسا ہوا ہے چین کو کلین چٹ دے دی گئی۔ ہم جتنی بار ذکر کریں گے کم ہے کیوں کہ لداخ سے لے کر اروناچل پردیش تک چین جو سمت دکھارہا ہے اسی کلین چٹ کی وجہ سے ہی اس لئے یہ بیجا طور پر کیا جاسکتا ہے کہ نام نریندر کام سرینڈر۔