ڈاکٹر مروان اسمر
غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام ان کی نسلی تطہیر کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو بڑے فخریہ انداز میں کھڑے ہوکر مسکراتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم مشرق وسطی کا چہرہ بدل رہے ہیں۔ 2023 کے اواخر میں غزہ کی خواتین اور بچوں کے قتل پر خوش ہوتے ہوئے وہ حقیقت میں عرب دنیا کے مزید معمول پر آنے کی بات کر رہے تھے جیسا کہ معاہدہ ابراہیم کے ذریعہ قائم کیا گیا اور اسرائیل کی بالادستی کے تحت ایک معاشی نظام تشکیل دینے ساتھ ہی فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور لبنان میں سرگرم حزب اللہ و یمن کے حوثیوں کو ختم کرنے اور ایران کے پر کاٹنے کا ذکر کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ اسرائیل فلسطینی تنظیم حماس ، ایران ، ایران کے حامی حزب اللہ اور حوثیوں کو اس کرہ ارض پر اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کر تا ہے ، وہ انہیں مٹانے ان کا وجود ختم کرنے کی لاکھ کوشش کر رہا ہے لیکن اسے مسلسل ناکامی ہی ہاتھ آرہی ہے ۔ نتن یاہو جو کل تک غرور و تکبر میں مبتلا ہوکر بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے ، ان کے چہرہ سے رعونت جھلک رہی تھی ۔ اب یقیناً موجودہ صورتحال میں ان کا چہرہ بالکل بدل گیا ہے ۔ 29 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ میں ایران اور حزب اللہ کو ڈھکیل دیا گیا اور اس جنگ میں کوئی شکل نہیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کو بہت نقصان پہنچایا ، اس کی قیادت کو شہید کیا ، فوجی کمانڈرں کا صفایا کیا گیا لیکن اگلے 39 دنوں میں خلیج اور اردن میں امریکی بحری جہازوں اور مغربی اردن پر ایران نے ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ جنگی جنون میں مبتلا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جنگ بندی کی اپیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ اسرائیل کے شہروں ایران کے فضائی حملوں نے زبردست تباہی مچائی۔ نتیجہ میں وہاں غزہ کے مناظر دیکھے گئے اور اسرائیلی شہروں میں غزہ کی تباہی کے مناظر دیکھ کر یقیناً غزہ کے تباہ حال فلسطینیوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں ہوں گی ۔ وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوں گے کہ چلو اسرائیلیوں اور ان کی حکومت کو تباہی و بربادی کیا ہوتی ہے ، اس کا احساس تو ضرور ہوا ہوگا۔ بہرحال اسرائیلیوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں پناہ لینے کی عادت سی ہوگئی ہے اور شائد وہ اس طرح کی مصیبت سے تنگ آچکے ہوں۔
ویسے بھی زیر زمین پناہ گاہوں میں بار بار پناہ لینا اسرائیلیوں کیلئے ایک ڈراونے خواب سے کم نہیں ، بطور استعارہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تل ابیب کی ناک ریت میں ایسی رگڑی جارہی تھی کہ جس کا تصور کبھی نتن یاہو اور شدت پسند بائیں بازو کے اسرائیلی فاشسٹ سیاستدانوں نے کیا ہو۔ ان لوگوں کے تصور میں بھی کبھی یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ اسرائیل ایران کے ہاتھوں اس قدر ذلیل و خواب ہوگا ۔ اسرائیل کے شدت پسند بائیں بازو کے فاشسٹ سیاستداں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مسلسل اس بات کا مطالبہ کر رہے تھے کہ غزہ کے مکینوں (فلسطینیوں) کو ان کے اپنے وطن مقدس سے بیدخل کردیا جائے (یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 7 اکتوبر 2023 سے تاحال اسرائیلی فورس کے ہاتھوں تقریباً 80 ہزار فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا ہے اور چار لاکھ سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے)۔ ایک بات ضرور ہے کہ نتن یاہو نے اپنی طاقت اور امریکی حمایت کے بل بوتے پر جو غرور و تکبر کیا تھا وہ خاک میں مل گیا ہے اور جو اس نے نئے مشرق وسطی کا جو تصور کیا تھا ، وہ تصور یکسر بدل چکا ہے بلکہ حالات خود اسرائیل کے خلاف ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر ایران کے سخت سیاسی موقف اور ایران کے میزائلوں نے حالات کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے اور اس بات کا احساس اسرائیل اور اس کے کٹر حامی امریکہ کو بھی اچھی طرح ہوگیا ہے۔ ا یک اور اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی حکومت کو تبدیل کرنے کے معاملہ میں بلند بانگ دعوے کئے گئے اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے باوجود اسرائیل اور امریکہ کو نہ صرف ایران میں حکومت کی تبدیلی میں کامیابی ملی اور نہ ہی وہ ایران کا جوہری پروگرام اور بالسٹک میزائیل پروگرام ختم کرواسکے۔ اب ایسے میں نتن یاہو اب کیا بات کر رہے ہیں۔ آج یقیناً ایک نیا مشرق وسطی ابھر کر سامنے آرہا ہے لیکن وہ نتن یاہو کے خوابوں اس کے تصور یا سوچ و فکر کے مطابق نہیں ہے۔ آج اگر کسی ملک کو خوش ہونا چاہئے۔ کامیابی کا جشن منانا چاہئے ۔ وہ واضح طور پر ایران ہے، اس کے پاسداران انقلاب کے گارڈس اس کے جرنیل فوجی عہدیدار اور ایرانی سپاہی ہیں جو یقیناً مشرق وسطی کا چہرہ بدل رہے ہیں اور شائد اب یہ طئے بھی کر رہے ہیں کہ آئندہ اس خطہ کی شکل اس کی ہیبت کیسی ہوگی ۔ آپ کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کئے جانے کے پہلے ہی دن سے اپنے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ٹرمپ خوف کے مارے بھاگے جارہے تھے ۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو جھونک تو دیا لیکن انہیں جلد ہی اس حقیقت کا احساس ہوگیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور موساد نے انہیں (بیوقوف بناکر) اس جنگ میں پھنسادیا ہے ۔ ایران کے خلاف لاکھڑاکیا ہے۔ خود بے شمار امریکی سیاستدانوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ جنگ امریکہ کی نہیں بلکہ اسرائیل کی ہے اور امریکہ اسرائیل کی یہ جنگ لڑ رہا ہے جسے کسی بھی طرح دانشمندانہ فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جلد ہی اس حقیقت سے بھی واقف ہوگئے کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور موساد نے انہیں قائل کروایا کہ ایران کے خلاف یہ جنگ بڑی آسان ہوگی اور ایران حکومت تاش کے پتوں کی طرح بکھیر جائے گی۔ تب سے ٹرمپ خود کو کوس رہے ہیں کہ آخر وہ کیسے نتن یاہو اور موساد کے بہکاوے میں آگئے اور جنگ میں کود پڑے۔ ٹرمپ یہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ نتن یاہو ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے 1990 کے دہے سے امریکی صدر پر اثر انداز ہونے کی مسلسل کوشش کر رہے تھے ۔ خاص طور پر نتن یاہو نے بل کلنٹن ، جارج ڈبلیو بش ، بارک اوباما اور جوبائیڈن کو ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کیلئے اکسایا لیکن یہ سابق امریکی صدور اسرائیل اور نتن یاہو کے جھانسے میں نہیں آئے ۔ ان کی بات سننے سے انکار کردیا تاہم ڈونالڈ ٹرمپ جو خود کو بہت ہوشیار بہت چالاک بزنس میان اور سیاستداں قرار دیتے ہیں اور خود کی پیٹھ تھپتھپانے میں ان کا کوئی جواب نہیں ، نتن یاہو اور موساد کے جال میں پھنس گئے اور شائد اسی وجہ سے وہ اب اندر ہی اندر خود کو کوسنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں ڈھکیل کر صرف امریکہ کا ہی نقصان نہیں کیا ہے بلکہ ساری دنیا کو ایک سنگین معاشی بحران میں مبتلا کردیا ہے ۔ امریکہ کے ساتھ ان کا اتحاد اور اس کے برعکس حزب اللہ جس کے جنگجو نومبر 2024 سے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے اور جب حزب اللہ نے تل ابیب پر فضائی حملہ روک دیئے تھے وہ ایک بہت برا حیران کن معاملہ سمجھا جارہا تھا ۔ خوش فہمی میں مبتلا اسرائیل یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ حزب اللہ کمزور پڑگئی ہے اور اسی کمزوری کی وجہ سے جنگ بندی کیلئے فوری رضامندی ظاہر کی۔ ا یسے میں ایران کے خلاف جنگ چھیڑتے ہی حزب اللہ کا حرکت میں آنا اسرائیل کو پریشان کردیا۔ ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ بندی کے 6 دن بعد بھی حمب اللہ نے اسرائیل پر اپنا فوجی دباؤ برقرار رکھا اور اسرائیلی فوج کو جھکنے پر مجبور کردیا ۔ جنگ کے 46 ویں دن ٹرمپ نے اسرائیل کو ہدایت دی کہ وہلبنان پر حملے بند کرے۔