تلنگانہ میں محبوب نگر اور ٹاملناڈو میں رامناتھ پورم کی تجویز، بی جے پی قیادت کا فیصلہ باقی
حیدرآباد۔9۔ جنوری (سیاست نیوز) جنوبی ہند میں بی جے پی کے استحکام کیلئے کیا وزیراعظم نریندر مودی جنوب کی کسی لوک سبھا نشست سے مقابلہ کریں گے ؟ بی جے پی میں اس مسئلہ پر قائدین کے درمیان مباحث جاری ہے اور بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے بی جے پی یونٹس نے تجویز پیش کی ہے کہ وزیراعظم لوک سبھا انتخابات میں وارانسی کے ساتھ جنوب کی کسی ایک نشست سے مقابلہ کریں تاکہ تلنگانہ ، ٹاملناڈو اور آندھراپردیش میں پارٹی کے امکانات بہتر ہوسکیں۔ بی جے پی اعلیٰ کمان نے ابھی تک اس بارے میں کوئی وضاحت تو نہیں کی ہے لیکن قائدین کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کیلئے کافی وقت ہے، لہذا اس تجویز پر مناسب وقت پر غور کیا جائے گا ۔ جاریہ سال کرناٹک اور تلنگانہ اسمبلی کے چناؤ ہیں جبکہ آندھراپردیش اسمبلی کے انتخابات مئی 2024 ء میں لوک سبھا کے ساتھ ہوں گے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکز ی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جنوبی ہند کی ریاستوں پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ پارٹی کو مستحکم کیا جائے اور شمالی ریاستوں میں پارٹی کو امکانی نقصان کی جنوب سے پابجائی کی جاسکے۔ تلنگانہ بی جے پی قائدین نے وزیراعظم نریندر مودی کیلئے محبوب نگر لوک سبھا حلقہ کی تجویز پیش کی ہے ۔ یہ حلقہ بی جے پی کے مضبوط قلعہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور سابق میں جتیندر ریڈی اس حلقہ سے کامیاب ہوچکے ہیں جو ان دنوں بی جے پی میں ہیں۔ بی جے پی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا کا تعلق بھی محبوب نگر ضلع سے ہے ۔ پسماندہ محبوب نگر ضلع سے بی جے پی نریندر مودی کو میدان میں اتار کر دیگر حلقوں پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے۔ دوسری طرف ٹاملناڈو کے قائدین نے رامناتھ پورم لوک سبھا نشست کو وزیراعظم کیلئے موزوں قرار دیا ہے۔ جنوبی ہند سے عام انتخابات میں وزیراعظم کے حصہ لینے سے یقینی طور پر بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن نئی دہلی کے ذرائع کے مطابق اس بارے میں پارٹی فورم میں ابھی تک کوئی غور نہیں ہوا ہے۔ انتخابی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے ہر ریاست کیلئے علحدہ کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے اور مذکورہ کمیٹیوں کی سفارشات کے مطابق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ر