نظام آباد : غیرمجاز قبضوں کیخلاف دوسرے دن بھی انہدامی کارروائی

   

کارروائی بلا امتیاز کی جائے ، تمام علاقوں میں غیرمجاز قبضوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے جائیں ، عوام کا مطالبہ
نظام آباد۔17 اکتوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نظام آباد شہر میں سرکاری اراضی پر غیر مجاز قبضوں کے خلاف ضلع انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بودھن روڈ پر واقع اکبر باغ کالونی میں دوسرے دن بھی انہدامی کارروائی انجام دی۔ محکمہ ریونیو ، پولیس اور میونسپل حکام کی نگرانی میں جے سی بی کی مدد سے غیر مجاز تعمیرات اور ٹین شیڈس کو منہدم کرتے ہوئے مبینہ طور پر کیے گئے قبضہ کو ہٹایا گیا جبکہ عملہ نے ملبہ صاف کیا۔ انتظامیہ کی اس کارروائی کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں سرکاری اراضی پر قائم دیگر غیر مجاز قبضوں کے خلاف بھی کارروائی کیے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ نظام آباد شہر کے نیالکل روڈ، بائی پاس روڈ، بودھن روڈ اور دیگر علاقوں میں سرکاری اراضی، بالخصوص محکمہ اوقاف و مذہبی امور، ای نام اور محکمہ آبپاشی کی زمینوں پر مبینہ قبضوں کا معاملہ عرصہ دراز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بعض مقامات پر قابضین کی جانب سے مبینہ طور پر پٹہ جات تیار کرکے اراضی فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی جانب سے متعدد مرتبہ نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود بعض مقامات پر قبضے برقرار رہنے کی شکایات ہیں۔ تقریباً دو سال قبل سروے نمبر 231 سی میں واقع سی آر پی ایف کی اراضی پر بھی قبضے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت سیاست نیوز میں خبر کی اشاعت کے بعد ضلع انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے ناجائز قبضوں کو برخاست کردیا تھا، تاہم اس قیمتی اراضی کے مستقل تحفظ کے لیے اب تک مؤثر اقدامات نہ کیے جانے پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ اسی طرح بودھن روڈ پر محکمہ آبپاشی کی اراضی اور نالے سے متصل زمین پر بھی مبینہ طور پر غیر قانونی قبضہ کرتے ہوئے تعمیرات انجام دیے جانے کی شکایات ہیں۔ مقامی حلقوں کا الزام ہے کہ سیاسی دباؤ کے باعث متعلقہ سرکاری عہدیداروں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری اراضی پر قبضوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر میں اس سے قبل قلعہ روڈ پر 13 گنٹہ سرکاری اراضی کو قبضے سے آزاد کرایا گیا تھا، جبکہ اگست 2024 میں ڈویژن نمبر 10 کے بوڈم چیرو کے اطراف غیرمجاز قبضوں کی برخاستگی کے خلاف کارروائی کی گئی۔ بعد ازاں مجاہد نگر میں بھی سرکاری اراضی کو قبضوں سے آزاد کرانے کے اقدامات کیے گئے۔ دوسری جانب بائی پاس روڈ پر کروڑوں روپے مالیت کی اینام اراضی پر مبینہ طور پر وینچرس قائم کیے جانے اور آرمور روڈ پر ایک بڑے وینچر میں تالابوں، نالوں اور محکمہ آبپاشی کی نہر کے آثار مٹائے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں ارساپلی کے مضافات میں ممنوعہ اراضی کی فہرست میں شامل سروے نمبر 248 کی زمین کی رجسٹریشن کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا، جہاں مبینہ طور پر این اے ایل اے کنورژن اور پٹہ جات کی بنیاد پر رجسٹریشن کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح محکمہ جنگلات نے دودڈی کومریا کالونی، وشنو نگر اور اسد بابا نگر میں محفوظ جنگلاتی اراضی پر مکانات تعمیر کرنے والے 183 افراد کو نوٹس جاری کیے تھے، جن میں سے 147 افراد نے جواب میں دعویٰ کیا کہ ان کے پاس محکمہ مال کے جاری کردہ پٹہ جات موجود ہیں۔ تاہم محفوظ جنگلاتی اراضی پر ان پٹہ جات کی قانونی حیثیت اور متعلقہ زمینوں کے معاملے میں انتظامیہ کی آئندہ کارروائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر شہر اور مضافاتی علاقوں میں موجود سرکاری، محکمہ آبپاشی، اینام، محکمہ اوقاف و مذہبی امور، جنگلاتی اور دیگر مختص اراضی کا جامع سروے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے، تاکہ غیر مجاز قبضوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اراضی کی اصل نوعیت، ملکیت اور حدود کا تعین کیا جاسکے۔ ضلع کلکٹر ایلا ترپاٹھی نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور سرکاری زمینوں کو غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے ضروری مقامات پر فینسنگ کی جائے اور جہاں کہیں تجاوزات کی نشاندہی ہو، انہیں فوری طور پر برخاست کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اکبر باغ کالونی میں دوسرے دن بھی جاری انہدامی کارروائی کو انتظامیہ کے سخت موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ کارروائی صرف ایک علاقے تک محدود نہ رہے بلکہ شہر کے تمام علاقوں میں موجود غیر مجاز قبضوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور مستقبل میں دوبارہ قبضوں کو روکنے کے لیے سرکاری اراضی کے تحفظ کے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔