نظام آباد میں کانگریس اور پولیس کے درمیان زبردست ٹکراؤ

   

ٹی آر ایس کے دفتر کے محاصرہ کی کوشش پر احتجاجی کارکنوں کی گرفتاری

نظام آباد :14؍ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نظام آباد میں یوتھ کانگریس ، این ایس یو آئی کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے چیف منسٹر کے علامتی پتلہ کو نذرآتش کرنے کے علاوہ ٹی آرایس آفس پہنچ کر آفس کا محاصرہ کرنے کی کوشش کرنے پر IVٹائون پولیس نے یوتھ کانگریس کارکنون کو گرفتار کرتے ہوئے IVٹائون پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔ تفصیلات کے بموجب کل رات کانگریس کے میڈیا وار روم پر پولیس نے حملہ کرتے ہوئے کمپیوٹرس ، ہارڈ ڈسک و دیگر اشیاء کے علاوہ کانگریسی کارکنوں کو گرفتار کیا تھا جس پر کانگریس کارکنوں نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پولیس کے رویہ کیخلاف محمد علی شبیر ، ملو روی و دیگر نے یہاں پہنچ کر احتجاج کیا تو محمد علی شبیر ، ملو روی کو بھی گرفتار کرلیا تھا – جس پر آج ضلع اقلیتی سیل کے صدر عرفان علی ، مسعود احمد اعجاز، محمد ضیا احمد، بلاک کانگریس کے عبود بن حمدان ، این یس یو آئی یوتھ کانگریس کے علاوہ مہیلا کانگریس کی ملکہ بیگم ، پرتیم ، وینو راج و دیگر نے این ٹی آر چوراستہ پر دھرنا دیا بعدازاں انہوں نے کے سی آر کے علامتی پتلہ کو نذرآتش کیا یہاں سے قریب واقع ٹی آرایس بھو ن پہنچ کر ٹی آرایس بھون کا محاصرہ کرتے ہوئے گیٹ کے روبرو دھرنا دینا شروع کیا تو IVٹائون پولیس یہاں پہنچ کر کانگریس کارکنوں کو گرفتارکرلیا ۔ کانگریس کارکن اور پولیس کے درمیان زبردست دھکم پیل دیکھی گئی ۔ کانگریس کارکنوں کو زبردستی گرفتاری پر کانگریس کارکنوں نے شدید ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ریاست میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ٹی آرایس بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ ریاست گیر سطح پر بی جے پی اور ٹی آرایس کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کیا جارہا ہے ۔ لیکن پولیس ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی ہے ۔