نفرت انگیز تقریر پر یکساں مقدمہ چلایا جائے گا: سپریم کورٹ

   

نئی دہلی :سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر یکساں طور پر کارروائی کی جائے گی، مجرم کے عقیدے سے کاروائی پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔ جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایک وکیل نے الزام لگایا کہ جولائی میں کیرالہ میں ایک ریالی نکالی گئی تھی جس میں نفرت انگیز نعرے لگائے گئے تھے ۔ عدالت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ نفرت انگیز تقریر کے مقدمات کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا، چاہے کوئی بھی فریق ایسا کر رہا ہو۔ ایڈوکیٹ نظام پاشا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ نفرت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔ یہ تبادلہ اس وقت ہوا جب نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شکایت کرنے والی درخواستوں کا ایک سلسلہ سماعت کے لیے آیا۔ اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 21ویں صدی میں یہ افسوسناک ہے کہ ہم نے مذہب کو کم کر دیا ہے۔