الگ الگ خاندان ہونے کے باوجود گھر میں ایک ہی باورچی خانہ
ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت برقرار
حیدرآباد 25 اکٹوبر (سیاست نیوز) آج کے دور میں جہاں ایک دوسرے کیلئے وقت نکالنا اور ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا ناممکن سی بات ہے ایک ہی گھر میں رہ کر معمولی غلط فہمیوں کی وجہ سے مشترکہ خاندان میں جھگڑے ایک عام بات ہوگئی ہے۔ آج کے اس مصروف ترین دور میں ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے ساتھ ایک گھر میں زندگی گزارنا بے حد مشکل ہوگیا ہے۔ تاہم عادل آباد ضلع کے بازار ہتنور منڈل کے منجیرم تانڈہ میں 34 افراد پر مشتمل ایک خاندان ہے جو ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے مثالی اور متاثرکن مثال پیش کررہا ہے۔ آنجہانی چندولال اور ان کی اہلیہ کیروت مونابائی کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی جہاں ان کی بیٹی شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر چلی گئی۔ وہیں پانچوں بیٹے اپنی بیویوں اور بچوں کے ساتھ ایک متحدہ خاندان کی صورت میں رہتے ہیں۔ اگرچہ وہ 6 الگ الگ گھروں میں رہائش پذیر ہیں لیکن ان کا باورچی خانہ مشترکہ ہے اور وہ سب ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ ہر صبح و شام وہ جوار اور گندم کے آٹے سے 100 روٹیاں تیار کرتے ہیں۔ اس طرح دو وقت میں روزانہ 200 روٹیاں پکائی جاتی ہیں اور ساتھ ہی چار کیلو چاول سے پکا ہوا کھانا بھی تیار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان 34 ایکر اراضی پر کاشتکاری کرتا ہے جس میں ان کی اپنی ملکیت والی زمین اور لیز پر لی گئی زمین بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ تقریباً 120 مویشی بھی پالتے ہیں جس میں گائیں، بکریاں اور بھیڑیں شامل ہیں۔ خاندان کے افراد نے کام آپس میں تقسیم کرلیا ہے اور ہر فرد اپنی مخصوص ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ بچوں میں سے 11 اسکول میں زیرتعلیم ہیں جبکہ دو انٹرمیڈیٹ میں زیرتعلیم ہیں۔ اس خاندان کا کہنا ہے کہ ذمہ داریوں میں شراکت اور باہمی احترام ہی ان کے خاندان کی اصل طاقت ہے۔ اس خاندان نے پوری دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی ہے کہ مشترکہ خاندان کے ساتھ رہ کر بھی بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔(ش؍V)