( آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی عاملہ کا اجلاس )
یکساں سیول کوڈ دستور ی حقوق میں مداخلت، کاشی اور متھرا پر تنازعہ غیر ضروری، ہجومی تشدد روکنے حکومت اقدامات کرے
حیدرآباد۔/14 جولائی، ( سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مسلم مطلقہ خواتین کیلئے نان نفقہ سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے قانون شریعت سے راست تصادم قرار دیا۔ بورڈ نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کی مخالفت کی اور اترا کھنڈ قانون ساز اسمبلی میں یکساں سیول کوڈ کے حق میں قرارداد کی منظوری کو غیر دستوری قرار دیا۔ اجلاس کی کارروئی بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے چلائی۔ نائب صدور مولانا سید ارشد مدنی، جناب سید سعادت اللہ حسینی، پروفیسر سید علی محمد نقوی، سکریٹریز مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، مولانا محمد یسین علی عثمانی، بورڈ کے خازن پروفیسر محمد ریاض عمر کے علاوہ صدر جمعیۃ العلمائے ہند مولانا سید محمود اسد مدنی، امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، سینئر ایڈوکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالہ، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، مولانا عتیق احمد بستوی، جناب اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، جناب ایم آر شمشاد ایڈوکیٹ، ڈاکٹر ظہیر قاضی، محترمہ عطیہ صدیقہ، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی، محترمہ نکھت پروین خاں اوردوسروں نے شرکت کی اور مباحث میں حصہ لیا۔ بورڈ کی مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ مسلم مطلقہ خواتین کے نفقہ سے متعلق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ قانون شریعت سے راست متصادم ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اس بات کا اعادہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے لہذا حتی الامکان ازدواجی زندگی کو بنائے رکھنے کیلئے قرآن میں تاکید کی گئی ہے۔ طلاق سے پہلے معاملات کو درست رکھنے کے بارے میں قرآن مجید میں ہدایات موجود ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود اگر ساتھ رہنا دشوار ہوجائے تو احسن طریقہ سے جدائی ایک معقول اور قابل عمل راستہ رہ جاتا ہے۔ عاملہ کا احساس ہے کہ اگر رشتہ سے نکلنے کو مشکل اور ناقابل عمل بنادیا جائے تو خواتین کیلئے مسائل پیدا ہوں گے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ خواتین کے مفاد میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ہی خواتین کیلئے مفید ہے اور نہ ہی قابل عمل ہے۔ اس سے اندیشہ ہے کہ خواتین کی زندگی مزید ابتر ہوجائے گی۔ جب رشتہ ہی باقی نہ رہے تو مرد پر مطلقہ کی کفالت کی ذمہ داری کیسے آسکتی ہے۔ مجلس عاملہ نے بورڈ کے صدر کو مجاز گردانا ہے کہ وہ اس کے تدارک کیلئے قانونی اور جمہوری ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے فیصلہ میں تبدیلی کی کوشش کریں۔ ہندوستان میں جس طرح ہندوؤں کو اپنے پرسنل لا ( ہندو کوڈ لا ) کے مطابق زندگی گذارنے کا حق ہے اسی طرح مسلمانوں کیلئے شریعت اپلکیشن ایکٹ 1937 موجود ہے۔ ملک کے دستور نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب کے مطابق دستور کی دفعہ 25 کے تحت زندگی گذارنے کا بنیادی حق فراہم کیا ہے۔ مجلس عاملہ نے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک کیلئے یونیفارم سیول کوڈ موزوں اور مناسب نہیں ہے اور نفاذ سے متعلق کوششیں دستورکی روح کے منافی ہیں۔ اقلیتوں کو دستور میں جو ضمانتیں دی گئی ہیں یونیفارم سیول کوڈ ان کو ختم کردے گا اس لئے مرکزی حکومت اور کسی بھی ریاستی حکومت کو یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ اس طرح کا کوئی بھی اقدام مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اترا کھنڈ اسمبلی میں یونیفارم سیول کوڈ کے حق میں منظوری کو غیر ضروری اور دستور ہند میں دی گئی ضمانتوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اترا کھنڈ حکومت نے لیون ریلیشن شپ کو بھی جائز قرار دیا ہے جو نہ صرف اخلاقاً بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی غلط ہے۔ بورڈ نے اس قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ کی مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ اوقاف دینی اور خیراتی مقاصد کیلئے مسلمانوں کے مقدس اثاثے ہیں۔ مسلمان ہی اس کے متولی اور منتظم ہوتے ہیں اور ان ہی کو استفادہ کا حق ہے۔ ملک میں اوقاف کی کئی اراضیات حکومت کے استعمال میں ہیں۔ بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مارکٹ ریٹ کے لحاظ سے ان املاک کا کرایہ ادا کرے اور منشائے وقف اور قانون شریعت کے تحت اس رقم کو خرچ کرے۔ بورڈ نے کہا کہ جب کوئی چیز وقف کردی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے۔ مسلمان خود بھی اسے اپنی خواہش کے مطابق اپنی ذات کیلئے استعمال نہیں کرسکتا۔ آزادی کے بعد سے وقف کے قانون میں ترمیمات کی گئیں۔ 2013 میں قانون نے آخری شکل اختیار کی۔ پرسنل لا بورڈ نے وقف ایکٹ پر نیک نیتی سے عمل آوری اور وقف بورڈ کو املاک کے حصول اور تحفظ کیلئے عدالتی اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تاکہ ناجائز قبضوں کو برخواست کیا جاسکے۔ بورڈ نے متولیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خود بھی اوقافی جائیدادوں کے استعمال سے بچیں اور دوسروں کو بچائیں۔ بورڈ کی مجلس عاملہ نے گیان واپی مسجد واراناسی اور متھرا کی شاہی عید گاہ کے تعلق سے تحت کی عدالتوں میں پیدا کئے گئے تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کا احساس ہے کہ عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کے ذریعہ پارلیمنٹ نے ہر نئے تنازعہ کا دروازہ بند کردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ سناتے ہوئے قانون کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ اس کے ذریعہ ہر نئے تنازعہ کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔ آج وہی سپریم کورٹ متھرا اور کاشی سے متعلق مسلمانوں کی اپیلوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو پھر اندیشہ ہے کہ شرپسند طاقتیں ملک کے مختلف علاقوں میں نئے تنازعات کھڑا کریں گی۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ متھرا کی عید گاہ سے متعلق 1968 میں کرشنا جنم بھومی ٹرسٹ اور شاہی عید گاہ ٹرسٹ کے درمیان معاہدہ کے ذریعہ تنازعہ کو حل کرلیا گیا تھا۔ بورڈ نے دہلی کی سنہری مسجد کی شہادت کے منصوبہ کی مذمت کی۔ اجلاس کا احساس ہے کہ سنہری مسجد اور لنٹن زون میں موجود دیگر 6 مساجد شرپسندوں کے نشانہ پر ہیں۔ یہ تمام مساجد اوقاف کی ان 123 جائیدادوں میں شامل ہیں جن پر عدالت کا حکم التواء ہے۔ بورڈ نے ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ لوک سبھا نتائج سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ ملک کے عوام نے نفرت کے ایجنڈہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ملک میں قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہجومی تشدد کے واقعات سے سختی سے نمٹے۔ بورڈ نے اس مسئلہ پر اپوزیشن کی خاموشی کا بھی نوٹ لیا۔ مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ فلسطین کا مسئلہ انسانی مسئلہ ہے۔ اسرائیل نے جبر اور ظلم کے تمام ریکارڈ توڑدیئے ہیں۔ اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی پشت پناہی کی مذمت کرتے ہوئے بورڈ نے مسلم ممالک کو فلسطینیوں کے تحفظ کے اقدامات کا مشورہ دیا۔ حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت کے اپنے دیرینہ موقف پر برقرار رہے۔ اجلاس میں مسلم معاشرہ میں بڑھتی برائیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور عائلی اور سماجی معاملات کی شریعت کے مطابق یکسوئی کیلئے دارالقضاء سے رجوع کرنے کی اپیل کی۔1