ہر سال 400 سرجری کا نشانہ، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ڈاکٹرس کو مبارکباد پیش کی
حیدرآباد۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس (نمس) میں غریب خاندانوں کے بچوں کے امراض قلب کے علاج اور سرجری کے سلسلہ میں خصوصی کیمپ منعقد کیا گیا۔ اس کیمپ میں نمس کے ماہر ڈاکٹرس نے کسی معاوضے کے بغیر 2 تا 13 سال عمر کے 19 بچوں کی کامیاب ہارٹ سرجری کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ کمسن بچوں کی ہارٹ سرجری پر خانگی ہاسپٹلس میں 5 تا 20 لاکھ روپے کے مصارف ہوتے ہیں لیکن نمس کے سرجری کیمپ میں مفت سرجری انجام دی گئی۔ نمس کے ماہر ڈاکٹرس کی ٹیم نے ’ہیلنگ لٹل ہارٹس‘ نامی تنظیم کے اشتراک سے یہ کیمپ منعقد کیا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کے امراض قلب کے ماہر ڈی رمنا اور کارڈیو تھراسیس سرجری شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ایم امریش راؤ نے ٹیم کی قیادت کی۔ کیمپ میں تقریباً ایک ہزار بچوں کا معائنہ کیا۔ ان میں سے بعض کا سرجری کے بغیر علاج کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 100 سے زائد بچے ابھی بھی سرجری کے منتظر ہیں اور ہاسپٹل حکام نے انہیں سرجری کی تاریخ الاٹ کی ہے۔ ڈاکٹر رمنا اور ان کی ٹیم ہر سال دو مرتبہ ہندوستان کا دورہ کرتی ہے اور غریب بچوں کے آپریشن کئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر امریش نے بتایا کہ تلنگانہ میں تقریباً 7000 بچے قلب کے سنگین نوعیت کے عارضے کا شکار ہیں۔ نمس میں ہر سال بچوں کے تقریباً 400 ہارٹ سرجری کی جاتی ہے۔ نمس کے حکام نے ہر سال ایک ہزار آپریشن کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ اسی دوران نمس میں پیڈیاٹریکٹ کارڈیارٹ سرجری کیمپ کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر رمنا اور ڈاکٹر امریش راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی۔ 6 تا 12 ستمبر منعقدہ کیمپ میں پیدائشی طور پر قلبی امراض میں مبتلا 19 بچوں کی کامیاب سرجری کی گئی۔ کیمپ میں محض 2 کیلو گرام وزن اور 2 ماہ کی عمر کے شیرخوار بچے کی بھی کامیاب سرجری کی گئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ڈاکٹرس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ اس موقع پر حکومت کے مشیر سدرشن ریڈی اور رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجے موجود تھے۔ 1؍F