ریاض ۔ 14 ستمبر (ایجنسیز) سعودی حکومت نے اپنے فلیگ شپ منصوبہ نیوم میں شامل چند متنازع اور مہنگے منصوبوں کے بعض حصوں کو ختم کرنے کیلئے آئندہ 5 سال میں 60 ارب ریال، یعنی 16 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض منسوخ کیے گئے منصوبوں کے ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کے لیے جرمانے اور دیگر ادائیگیاں کی جائیں گی جس کے باعث منصوبہ ختم کرنے پر ہی اربوں ڈالرز خرچ ہوں گے۔ نیوم میں پہاڑوں پر برفانی تفریحی مقام، بحیرہ احمر کے ساحلی تفریحی مراکز اور صنعتی زون سمیت متعدد بڑے منصوبے شامل ہیں جن کا مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت اور دیگر شعبوں کی جانب لے جانا ہے۔ منصوبہ کا مرکزی حصہ 170 کلو میٹر طویل اور 2 کلو میٹر چوڑا شہر ’دی لائن‘ تھا جسے صحرا میں سیدھی لکیر کی شکل میں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، منصوبے میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ریل کے ذریعہ سفر کی سہولت بھی شامل تھی۔ ’دی لائن‘ کی ابتدائی لاگت تقریباً 500 ارب ڈالرز بتائی گئی تھی تاہم منصوبے کو ابتداء ہی سے شہری منصوبہ بندی کے ماہرین نے غیر حقیقی اور ناقابلِ برداشت قرار دیا تھا۔