وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مرکز کے وقف ترمیمی قانون کی مخالفت کی

   

مسلمانوں سے مشاورت کا مشورہ، تلگودیشم اور جنتا دل یونائٹیڈ سے مسلمانوں کو مایوسی
حیدرآباد۔/8 اگسٹ،( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کی صیانت کے نام پر ان کی تباہی کی راہ ہموار کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کے پارلیمنٹ میں پیش کردہ وقف ترمیمی قانون 2024 کو حیرت انگیز طور پر تلگودیشم اور جنتا دل سیکولر جیسی جماعتوں نے تائید کی ہے۔ آندھرا پردیش کی اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس نے ترمیمی قانون کی مخالفت کی۔ لوک سبھا میں بی آر ایس کا وجود نہیں ہے لہذا ترمیمی قانون پر ایوان میں پارٹی کا کوئی موقف نہیں ہے۔ واضح رہے کہ وقف ترمیمی قانون کے نکات منظر عام پر آنے کے بعد مسلم جماعتوں اور مسلمانوں نے توقع کی تھی کہ سیکولر نظریات کے حامل چندرا بابو نائیڈو و نتیش کمار مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرکے ترمیمی وقف قانون کی مخالفت کریں گے لیکن حیرت انگیز طور پر دونوں نے حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ تلگودیشم اور جنتا دل سیکولر کی کامیابی میں مسلمانوں کی تائید کا اہم رول رہا لیکن لوک سبھا میں جب مسلمانوں سے ہمدردی کے اظہار کا وقت آیا تو دونوں نے مسلمانوں کے جذبات سے زیادہ حکومت کی تائید کو ترجیح دی ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اقلیتی بہبود این محمد فاروق نے اس مسئلہ پر چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے نمائندگی کا دعویٰ کیا تھا لیکن پارلیمنٹ میں تلگودیشم نے مودی حکومت کی تائید کرکے مسلمانوں کو مایوس کردیا۔آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے اپنے ارکان کو لوک سبھا میں ترمیمی قانون کی مخالفت کی ہدایت دی۔ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرکے جگن نے یہ فیصلہ کیا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو کی جانب سے بل کی پیشکشی کے بعد وائی ایس آر کانگریس کے فلور لیڈر متھن ریڈی نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ ایوان میں بل کی پیشکشی سے قبل مسلمانوں سے مشاورت کی جانی چاہیئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا معاملہ مسلمانوں کی شریعت سے متعلق ہے لہذا حکومت کو خود فیصلہ سے گریز کرنا چاہیئے۔ بل کی مخالفت کرنے والوں میں کانگریس، بائیں بازو، ٹی ایم سی، سماج وادی پارٹی، مسلم لیگ، مجلس اور انڈیا الائینس کی پارٹیاں شامل ہیں جبکہ انا ڈی ایم کے، تلگودیشم اور جنتا دل یونائٹیڈ نے بل کی تائید کی۔1