ماں باپ کو ہنستے نہیں د یکھا، مبلغ اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کو چار بن بیاہی لڑکیوں کے خطوط
حیدرآباد ۔ 9 ستمبر (سیاست نیوز) مسلم معاشرہ کی شادیوں میں بیجا اسراف نے معاشرہ کو ایک طرح سے کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ جہیز اور تقریب نکاح کے موقع پر مہمانوں کی بڑے پیمانے پر ضیافت کے مطالبہ نے صرف حیدرآباد یا تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کے کونے کونے میں ہزاروں کی تعداد میں لڑکیوں کو شادیوں کے انتظار میں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچادیا یا پھر وہ ارتداد کا شکار ہوکر غیرمسلموں کی بیویاں بن بیٹھی۔ ارتداد کا شکارہورہی ہیں۔ مسلم گھرانوں کی شادی بیاہ کی غیرشرعی رسومات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شادی کی یہ تقاریب ہرگز مسلمانوں کی نہیں ہوسکتی بلکہ ایمان کی قیمتی دولت سے محروم کسی قوم کسی قبیلے کی ہوسکتی ہے۔ شیطان تو ویسے کئی موقعوں پر خوش ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرہ میں آج کل جو شادیاں ہورہی ہیں، جن میں جس طرح نمود و نمائش کی جاتی ہیں، جھوٹی حماقت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ مبلغ اسلام حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی تو اس طرح کے واقعات پر آنسو بہاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے شادی بیاہ میں بیجا اسراف، غیرشرعی شرعی رسومات اور مسلم والدین و لڑکیوں کی بے بسی و بے کسی کی ایک المناک داستان بیان کی ہے جو کچھ اس طرح ہے ’’ایک لڑکی نے مجھے خطوط لکھے جب بھی میں ان خطوط کو پڑھا بلک بلک کر روتا رہا۔ بچی نے خط میں لکھا کہ چچا جان میں بڑی مشکل سے آپ کا ایڈریس تلاش کرکے یہ خط لکھ رہی ہوں۔ ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے اس لئے آپ کو زحمت دے رہی ہوں۔ میرے والد صاحب جونیر ہائی اسکول میں سرکاری ٹیچر ہیں اور تبلیغی جماعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم چار بہنیں ہیں اور چاروں قبول صورت ہیں۔ میری والدہ بیمار رہتی ہیں۔ والد صاحب کی تنخواہ میں ہم بچوں کے اخراجات اور والدہ کا علاج ہی بڑی مشکل سے ہوپاتا ہے اور شادیوں کیلئے جو مطالبات ہورہے ہیں، میرے والد اسے پورا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے چچاجان ہم اپنے والدین پر عذاب بن گئے ہیں۔ میں نے کب سے اپنے ماں باپ کو ہنستے نہیں دیکھا اور رات تہجد کی نماز کے بعد دعا میں والد کی سسکیوں سے میری آنکھ کھل گئی۔ والد صاحب اپنے رب کے سامنے فریاد کررہے تھے کہ رب کریم میری پھول سی بچیاں مجھ پر عذاب بن گئی ہیں۔ مجھے اس عذاب سے آپ کب نجات دیں گے۔ چچاجان مسئلہ یہ ہیکہ کیا اب بھی ہمارے لئے خودکشی جائز نہیں ہے؟ یہ مسئلہ دریافت کرنے کیلئے اس نے خط لکھا۔ ان بچیوں کی آہیں ان تمام محلات سے ٹکرا رہی ہیں اور دولتمندوں کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہیں اور یہ آہیں انہیں پھونک پھونک کر رکھ دیں گی۔ ان مظلوموں کی آہیں ان مالداروں کو پھونک کر رکھ دیں گی جو مال کے زعم میں شادیوں کو مشکل سے مشکل بنارہے ہیں۔ اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ تقاریر اور وعظ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ سب سے اہم یہ ہیکہ ہم لوگ عملی طور پر کھڑے ہوں اور ایسی مثالیں قائم کریں کہ شادیاں سادگی اور سنت کے مطابق کی جائیں۔