والدین کی مداخلت ازدواجی رشتوں میں دراڑیں

   

اسد علی، ایڈوکیٹ
موجودہ دور میں جبکہ انسان انسانیت سے محروم دکھائی دیتا ہے، ایسے میں معاشرہ بھی انھیں حالات کا شکار ہے۔ حالیہ دور کی ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بعض والدین کی مداخلت سے ازدواجی زندگیوں میں بھی دراڑیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ موجودہ دور میں جبکہ ہر شخص خود غرضی پر مائل، بزرگوں اور رشتوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ حالانکہ اسلامی نقطہ نظر سے اِس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ بچوں پر شفقت اور بزرگوں کا لحاظ کیا جائے لیکن اِس بات کو قطعی طور پر نظرانداز کردیا جارہا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بعض اوقات والدین کی بیجا مداخلت سے میاں بیوی کے رشتوں میں دراڑیں پیدا ہوجاتی ہیں اور اسی وجہ سے دونوں میں علیحدگی کی نوبت آجاتی ہے۔ حالانکہ اگر کوئی اختلاف بھی ہو تو بزرگوں کے ذریعہ اس کی یکسوئی کی جاسکتی ہے لیکن موجودہ دور میں ایسا نہیں ہورہا ہے اور دیکھا جارہا ہے کہ بعض اوقات والدین کی بیجا مداخلت کی وجہ سے شوہر اور بیوی کو مجبوراً علیحدگی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ماضی میں بزرگوں کے مشورہ کو سر جھکاکر قبول کیا جاتا تھا لیکن موجودہ دور میں حالات بالکل تبدیل ہوگئے ہیں۔ جہاں ذرا ذرا سی بات پر طلاق یا خلع کی نوبت آجاتی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر والدین رشتے سے راضی نہ ہوں تو وہ درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے شوہر اور بیوی کو علیحدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عملی طور پر دونوں کو علیحدہ کردیا جاتا ہے جبکہ اس میں عام طور پر بیجا شکایت اور انا کا مسئلہ ہوتا ہے جو حقیقت میں قابل نظرانداز ہوتا ہے۔ ان حالات میں عام طور پر لڑکے کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ حالانکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے جبکہ عام حالات میں لڑکے ہی کو قصوروار قرار دیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ لڑکا صبر کرے جبکہ میاں بیوی میں پھوٹ کا سبب اکثر فریقین کے والدین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر لڑکی قصوروار ہو تو اسے نظرانداز کردیا جاتا ہے اور لڑکے کو صرف اور صرف صبر کی تلقین کی جاتی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ طلاق اور خلع کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی اپنی ماں ہوتی ہے۔ لڑکے والے جب لڑکی کے گھر آتے ہیں تو لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کی تعریف زمین سے آسمان تک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر خصوصیت ان کی بیٹی میں پائی جاتی ہے حالانکہ ماں کو پتہ ہوتا ہے کہ بیٹی کی زبان کیسی ہے، بیٹی غصے کی تیز ہے یا نہیں، بیٹی کا کردار کیسا ہے اور بیٹی کے طور طریقے کیسے ہیں، لڑکی دیندار ہے یا نہیں، لیکن پھر بھی ماں لڑکے والوں کے سامنے اپنی بیٹی کی تعریف میں پُل باندھ دیتی ہے۔ Clints کے مطابق بہت سے لڑکے شادی کے بعد اپنی بیویوں کو بیرون ملک لے کر جاتے ہیں تاکہ وہاں خوشحال زندگی گزار سکیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ چند دنوں یا چند مہینوں میں ازدواجی زندگی میں دراڑ آجاتی ہے جس کی وجہ بعض لڑکیاں یہ کہتی ہیں کہ میں ڈاکٹر ہوں، لکچرر ہوں، انجینئر ہوں لہذا میں کچن میں جانا بُرا سمجھتی ہوں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے پیشے کے لحاظ سے کسی قسم کا پکوان نہیں آتا ہے اور نہ کوئی ایسا کام کرسکتی ہے جو ان کے وقار کے منافی ہو لیکن عورت کی سب سے بڑی ذمہ داری شوہر کی خدمت ہے لیکن کسی ہوٹل سے کھانا منگوانا، اُمور خانہ داری سے ناواقفیت، ازدواجی زندگی کی اہمیت میں لاپرواہی، اسلامی تعلیمات سے دوری، شک و شبہات، بعض والدین کی شوہر اور بیوی کی زندگی کی بیجا مداخلت، شوہر سے بدتمیزی اور بداخلاقی سے بات کرنا، شوہر کی نافرمانی وغیرہ سے شادیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ بیشتر لڑکیاں خاوند کی بُرائی میکہ اور رشتہ داروں میں کرتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنا دُکھ اپنوں میں بانٹ رہے ہیں لیکن حقیقت میں ہم اپنے ہی گھر کی دیواریں گرا رہے ہیں۔ یاد رکھیں جب آپ اپنے گھر کی بات باہر نکالتے ہیں اور دوسروں کو اپنے گھر میں مداخلت کی دعوت دیتے ہیں لوگ سن کر کچھ دیر کے لئے نام نہاد ہمدردی کریں گے لیکن آپ کے پیٹھ پیچھے آپ کی بُرائی کریں گے جو میاں بیوی ایک دوسرے کے عیبوں پر پردہ نہیں رکھ سکتے ان کے گھر برکت اور سکون ختم ہوجاتا ہے۔ انسان کا بُرا وقت تب شروع ہوتا ہے جب وہ پرائے کی باتوں میں آکر اپنوں سے لڑنے لگتا ہے، جب وہ اپنوں سے لڑتا ہے تو وہ کہیں کا نہیں رہتا لیکن پرائے تو آگ لگاکر چلے جاتے ہیں لیکن ہم اپنوں سے لڑ کر خود ہی اپنا گھر جلا لیتے ہیں۔ ماضی کی عورتیں رشتوں کو سنبھالتی تھیں اور ہر حال میں نبھاتی تھیں لیکن آج کی جنریشن میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے شادیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو آنے والی نسلیں رشتوں کے بغیر جینا سیکھ جائیں گے۔ جن شادی شدہ خواتین کو اپنے شوہروں سے شکوہ ہے ان کو چاہئے کہ دو گھنٹے طلاق یافتہ یا خلع والی عورت کے پاس بیٹھ جائیں ان کو اپنا شوہر دنیا کا سب اچھا شوہر لگے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں 80 فیصد سے زیادہ طلاق یا خلع کی بڑی وجہ روٹی، کپڑا اور مکان نہیں بلکہ بعض والدین کی میاں بیوی کی زندگی میں بیجا مداخلت ہے۔ طلاق ایک ایسا کاغذ ہے جس سے ایک مرد آزاد اور عورت داغدار ہوتی ہے اور اس طلاق یا خلع کا بوجھ صرف عورت نہیں بلکہ اس کا سارا خاندان ساری عمر بھر اُٹھاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اِس قسم کے واقعات بہت ہی قابل مذمت ہوتے ہیں حتیٰ کہ بھائی، بہنوں اور ازدواجی رشتوں میں بھی دراڑیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان سے حتیٰ کہ بھائی اور بہنوں سے بھی کوئی ہمدردی نہیں رہی ہے۔ ایسے واقعات عام ہے جب بھائیوں اور بہنوں کے درمیان باہمی تنازعہ جو جائیداد سے متعلق ہوتا ہے۔ عدالت تک پہونچ جاتا ہے اور جبکہ فریقین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مفاہمت کریں لیکن اِس پر عمل کا فقدان ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسلام میں عورت کا بہت اونچا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں عورت کو میں نے رحمت بنایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لئے بہتر ہو‘‘ اور اِسی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ماں بن کر جنت کا ذریعہ بنتی ہے اور بیٹی بن کر رزق میں برکت لے آتی ہے اور ایک نیک بہو بن کر شوہر کی زندگی سنوار دیتی ہے اور جب وہ روئیں تو عرش ہل جاتا ہے۔ ان حالات میں اُمت المسلمین کی ذمہ داری ہے کہ والدین اور بیوی کے حقوق ادا کریں اور دونوں کے ساتھ انصاف کریں ورنہ حشر میں اللہ کی عدالت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔