وزراء کی پیشی میں سابق حکومت کے عہدیداروں کی برقراری پر چیف منسٹر ناراض

   

تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ، اہم فیصلوں اور دستاویزات کے اپوزیشن تک پہونچنے کی شکایت

حیدرآباد 12 مئی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے اہم فیصلوں کے اعلان سے قبل اپوزیشن تک اطلاعات پہونچنے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریاستی وزراء کے دفاتر میں سابق حکومت کے عہدیداروں کی موجودگی کے بارے میں تفصیلات اکٹھا کرنے اسٹیٹ انٹلی جنس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی اہم فیصلہ کے اعلان سے قبل اپوزیشن تک تفصیلات پہونچ رہی ہیں۔ کئی اسکیمات کی تفصیلات کا اپوزیشن کو حکومت کے اعلان سے قبل علم ہوگیا۔ اِس کے علاوہ سرکاری اجلاسوں کی روئیداد بھی اپوزیشن قائدین تک پہونچ رہی ہے۔ اِس معاملہ پر چیف منسٹر نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسٹیٹ انٹلی جنس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ کابینی وزراء اور حکومت کے مشیران کے دفاتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں اور ملازمین کی تفصیلات اکٹھا کریں۔ پرسنل اسسٹنٹ (پی اے)، پرائیوٹ سکریٹریز (پی ایس)، پبلک ریلیشن آفیسرس (پی آر اوز) اور دیگر اسٹاف کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں گی کہ آیا یہ سابق حکومت کے دور میں بھی اِسی عہدہ پر فائز تھے یا پھر اُنھیں وزراء نے حکومت کی تبدیلی کے بعد دوبارہ خدمات پر حاصل کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کئی اہم سرکاری دستاویزات اپوزیشن تک پہونچنے کی شکایت عام ہے۔ ابتداء میں بعض سرکاری عہدیداروں پر شبہ ظاہر کیا گیا جو بی آر ایس دور میں اہم عہدوں پر فائز تھے۔ حکومت نے آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے بڑے پیمانے پر تبادلے انجام دیئے اور بی آر ایس دور کے عہدیداروں کی ذمہ داریوں کو تبدیل کیا۔ باوجود اس کے سرکاری دستاویزات کے افشاء اور حکومت کے اہم فیصلوں کی اپوزیشن کو اطلاعات مل رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض وزراء کے موجودہ پرسنل اسسٹنٹ سابق حکومت میں بھی اُس وقت کے وزراء کے پاس پیشی میں موجود تھے۔ وزیر مال سرینواس ریڈی کے موجودہ پی اے سابق وزیر ہریش راؤ کے پی اے رہ چکے ہیں۔ اِسی طرح وزیر جنگلات کونڈہ سریکھا کے پی اے سابق حکومت میں بھی ایک وزیر کی پیشی میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ موجودہ وزراء کے پی آر اوز سابق حکومت میں بھی پی آر او کے طور پر سرگرم تھے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سابق حکومت کے عہدیداروں کی برقراری یا پھر اُن کے دوبارہ تقرر کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گوپن پلی میں 439 ایکر اراضی کے حصول سے متعلق حکومت کے فیصلہ کی سرکاری اعلان سے قبل اپوزیشن کو اطلاع پہونچ گئی۔ حکومت آئی ٹی پارک کے لئے یہ اراضی مختص کرنا چاہتی ہے۔ کنچہ گچی باؤلی اراضی معاملہ میں بھی کئی دستاویزات اپوزیشن کے ہاتھ لگے جس کے بعد چیف منسٹر نے وزراء کی پیشی میں موجود عہدیداروں اور ملازمین کے بارے میں تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔1