آر ایس ایس ، بی جے پی کی مدد کے لیے تلنگانہ میں پھیل گئی ، مسلم غلبہ والے اسمبلی حلقوں پر نظر
چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف چارج شیٹ کی تیاری ، حساس اور متنازعہ مسائل کو اچھالنے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔ 11 جنوری( سیاست نیوز) وزیراعظم نریندر مودی کا 19 جنوری کا دورہ حیدرآباد ملتوی ہوگیا ہے۔ تاہم مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ 28 جنوری کو حیدرآباد کا دورہ کریں گے۔ اس کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ بی جے پی کی قومی قیادت جنوبی ہند پر اپنی ساری توجہ مرکوز کردی ہے۔ 19 جنوری کو وزیراعظم نریندر مودی سرکاری دورے پر حیدرآباد پہنچ رہے تھے جہاں پر وہ 7 ہزار کروڑ روپئے کے پراجکٹس کا آغاز کرنے والے تھے۔ ساتھ ہی چند ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد بھی رکھنے والے تھے۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر وندے بھارت ٹرین کا افتتاح‘ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی ترقی‘ سکندرآباد ۔ محبوب نگر کے درمیان 85 کیلومیٹر تک ڈبلنگ ریلوے لائن کے علاوہ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اکیڈمک عمارتوں‘ ہاسٹلس‘ فیکلٹی‘ اسٹاف عمارتوں‘ ٹکنالوجی ریسرچ پارک‘ کنونشن سنٹر‘ نالج سنٹر‘ گیسٹ ہاوز‘ لکچر ہال کامپلکس‘ ہیلت کیر و دیگر عمارتوں کا افتتاح کرنے والے تھے۔ تاہم وزیراعظم نریندر مودی کی دیگر اہم مصروفیات کے باعث ان کے دورے تلنگانہ کو ملتودی کردیا گیا ہے۔ اس کی اطلاع وزیراعظم کے دفتر نے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور تلنگانہ بی جے پی کے دفتر کو اس کی اطلاع دی۔ وزیراعظم کے آئندہ پروگرام کے بارے میں بہت جلد اطلاع دینے کی بات کہی گئی ہے۔ تلنگانہ میں جاریہ سال اسمبلی انتخابات ہیں۔ وزیراعظم کے دورے حیدرآباد کا بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔ سکندرآباد کے پریڈ گراؤنڈ پرایک جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے اور بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن نے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن اور پریڈ گراونڈ پہونچ کر وزیراعظم کے پروگرامس کا جائزہ بھی لیا تھا ۔ بنڈی سنجے نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا پروگرام عارضی طور پر ملتوی ہوا وہ بہت جلد تلنگانہ کا دورہ کریں گے ۔ ساتھ ہی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 28 جنوری کو حیدرآباد کا دورہ کریں گے ۔ ممکن ہے وہ دوسرے دن 29 جنوری کو بھی حیدرآباد میں رہیں گے ۔ بی جے پی قیادت ’ مشن تلنگانہ 2023 ‘ پر کام کررہی ہے ۔ امیت شاہ اپنے دورے حیدرآباد کے دوران پارٹی کے سینئیر قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور ساتھ ہی تلنگانہ کی 119 اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی کارکردگی مقابلہ کرنے والے امیدواروں کی تیاری ، دعویداروں کی فہرست ، تنظیمی سطح پر پارٹی کی طاقت ، کیڈر اور عوام سے پارٹی قائدین کے رابطہ کے علاوہ دوسرے مسائل کا جائزہ لیں گے بوتھ کمیٹیوں کے قیام ، سوشیل میڈیا ٹیم کی کارکردگی کے علاوہ دوسرے امور کا جائزہ لیں گے ۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ سے بی جے پی کے چار ارکان پارلیمنٹ کامیاب ہوئے تھے ۔ آئندہ سال 2024 میں منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے ابھی سے بی جے پی کے لیے سازگار رہنے والے حلقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کام کرنے کی حکمت عملی تیار کریں گے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے لیے آر ایس ایس میدان میں کود پڑی ہے ۔ ریاست کے حالیہ ضمنی انتخابات ، دوباک ، حضور آباد ، منوگوڑ میں بی جے پی کو کامیاب بنانے کے لیے جو فارمولہ تیار کیا گیا ہے ۔ اسی فارمولے پر ریاست بھر میں عمل کرنے بالخصوص مسلم غلبہ والے حساس اسمبلی حلقوں کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ جہاں متنازعہ مسائل کو موضوع بحث بنانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے سینئیر قائدین آر ایس ایس کے سینئیر قائدین سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں اور آپسی مشاورت کے ذریعہ انتخابی حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بی آر ایس حکومت کی ناکامیوں پر ایک علحدہ چارج شیٹ بھی تیار کی جارہی ہے ۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور تلنگانہ میں بی جے پی تنظیمی امور کے انچارج سنیل بنسل حیدرآباد میں موجود ہے ۔ن
وہ آج ضلع رنگاریڈی اور کل ضلع سنگاریڈی کے بی جے پی کے قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے بی جے پی کو تنظیمی سطح پر طاقتور بنانے کی مشاورت کررہے ہیں ۔۔ ن