وزیر صحت کا رمس دواخانہ کا دورہ ’’آیا رام گیا رام ‘‘ کے مماثل

   

متوفی بچوں کے سرپرستوں کو فی کس 50 لاکھ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ ، کویتا کا دورہ ، حکومت پر سخت تنقید
فوت شدہ بچوں کے والدین کو اپنی جانب سے
50 ہزار روپئے دینے سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کا اعلان

عادل آباد ۔ 23ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر صحت مسٹر دامودر راج نرسمہا کے عادل آباد Rims دواخانہ کے دورے کو ’’آیا رام گیا رام ‘‘ کا دورہ قرار دیتے ہوئے تلنگانہ رکشنا سینا صدر شریمتی کے کویتا نے سخت تنقید کرتے ہوئے Rims دواخانہ میں سانحہ کا شکار ہونے والے شیرخوار بچوں کے سرپرستوں کو حکومت کی جانب سے امدادی رقم فراہم کرنے کا اعلان نہ کرنے پر ریاستی وزیر کے دور کو ’’آیا رام گیا رام ‘‘ دوجہاں جہاں ایک طرف قرار دیا وہیں دوسری طرف شریمتی کے کویتا نے Rims دواخانہ کے حادثہ میں فوت ہونے والے بچوں کے والدین کو فی کس 50 ہزار روپئے فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ شریمتی کے کویتا دواخانہ حادثہ کے آج دوسرے دن عادل آباد کا دورہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ Rims دواخانہ میں AC150 موجود ہونے کے باوجود ایک بھی الیکٹریشن کا تقرر نہیں کیا گیا اور کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ضلع عادل آباد (گود ) لیتے ہوئے ضلع کو ہر شعبہ میں ترقی دلانے کا جہاں ایک طرف تیقن دیا تھا وہیں دوسری طرف چیف منسٹر مسٹر ریونت ریڈی کے اقتدار کے ایک ہزار دن میں عادل آباد کو صحت کے شعبہ میں ناکام قرار دیا ۔ ورنگل میں بھی ایم جے ایم دواخانہ کی چھت گرنے کے واقعہ کو بھی حکومت کا شرمناک واقعہ قرار دیا اور چیف منسٹر کو عادل آباد دورہ کرتے ہوئے المناک حادثہ کا شکار ہونے والے معصوم بچوں کے سرپرستوں کو امدادی رقم فی کس 50 لاکھ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ دواخانہ کے طبی عملہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے اُن کی لاپرواہی کے سبب واقعہ پیش آنے کا الزام عائد کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ 22 ستمبر کی شب AC پھٹ پڑنے کی بناء پر چلڈرنس وارڈ میں دھواں بھرگیا تھا جس کے بنا تاحال 5 بچوں کی موت واقع ہوچکی ہے جن میں رنچوڑہ ، اندرویلی ، اوٹنور کے بچہ بتائے گئے ہیں۔ دیگر 20 شیرخوار بچوں کو مستقر عادل آباد کے خانگی دواخانہ میں منتقل کیا گیا ہے۔