بیروزگاری بھتہ ، مہالکشمی اسکیم ، شہری و دیہی ترقیات کا کوئی تذکرہ نہیں ، ہریش راؤکا ردعمل
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس کے وعدوں پر عمل آوری کا انتظار کرنے والے عوام کو گورنر کا خطبہ مایوس کن ثابت ہوا ہے ۔ گورنر کے خطبہ سے عوام کی کانگریس حکومت سے جو امیدیں تھیں اس پر پانی پھیر گیا ہے ۔ اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کوشک ریڈی ، کے پربھاکر ریڈی ، سنیتا لکشما ریڈی کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ جس کا گورنر کے خطبہ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ کسانوں کو بونس دینے کے وعدے کو بھی فراموش کردیا گیا ۔ شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی کو نظر انداز کردیا گیا ۔ بیروزگار نوجوانوں کو 4 ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ دینے کا وعدہ کیا گیا ۔ اس پر کب سے عمل آوری ہوگی اس کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ۔ 500 روپئے میں گیس سیلنڈر ، 200 یونٹ تک مفت برقی اور کانگریس کے منشور میں جو وعدے کئے گئے ہیں ۔ اس کو گورنر کے خطبہ میں کوئی جگہ نہیں دی گئی ہے ۔ کانگریس حکومت نے اسمبلی میں گورنر کے احترام کو گھٹا دیا ہے ۔ پرجاوانی پروگرام کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے گئے جو بے اثر ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اس پروگرام میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کہیں نظر نہیں آرہے ہیں ۔ پرجاوانی پروگرام ہر دن ایک نئے وزیر حاضر ہورہے ہیں ۔ پرجاوانی پروگرام کے تعلق سے گورنر کو جھوٹ بولنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے ۔ کانگریس کے 6 گیارنٹی میں 13 وعدے شامل ہیں ۔ مہا لکشمی اسکیم میں تین وعدے کئے گئے جس میں ایک بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ آروگیہ شری اسکیم میں نقائص ہیں اس لیے گورنر سے ردعمل ظاہر نہیں کرایا گیا ہے ۔ کسانوں کو کانگریس حکومت نے دھوکہ دیا ہے ۔ کسانوں سے کئے گئے چار وعدوں میں ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ کانگریس حکومت نے اندرون 100 یوم تمام وعدے پورا کرنے کا وعدہ کیا جس میں 60 یوم مکمل ہوگئے ہیں ۔ کانگریس حکومت کے پاس صرف 40 دن باقی ہے ۔ مزید 10 دن میں لوک سبھا انتخابات کے لیے الیکشن نوٹیفیکیشن جاری ہوجائے گا ۔ تب تک حکومت اپنے وعدوں کی عمل آوری کو ٹالنے کی کوشش کررہی ہے ۔ 2
عوامی عدالت میں بی آر ایس پارٹی کانگریس حکومت کو قصور وار ثابت کردے گی ۔۔ 2