وقف بورڈ ملازمین کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت

   

رکن بورڈ مولانا سید شاہ ابوالفتح قادری بندگی پاشاہ کا حکومت اور صدر نشین کو مکتوب
حیدرآباد۔7۔مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی تعداد میں اضافہ اور عارضی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ بورڈ میں موجود عملہ کے ناکافی ہونے کے سبب ریاست کی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ مولانا سید شاہ ابولفتح قادری بندگی پاشاہ نے اس سلسلہ میں ریاستی حکومت اور چیف اکزیکیٹیو آفیسر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی اور کہا کہ ریاستی وقف بور ڈ کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے لازمی ہے کہ ریاست کے تمام اضلاع میں ہر ضلع میں کم از کم ایک انسپکٹر آڈیٹر کے تقرر کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں اور موجودہ عملہ کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے وقف بورڈ کے تحت خدمات انجام دینے والے شعبہ جات میں تال میل بہتر بنانے کے لئے ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ مولانا سید شاہ ابوالفتح بندگی پاشاہ نے وقف بورڈ کے ملازمین کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے ملازمین کے بنیادی مسائل میں ان کی تنخواہیں ہیں ۔انہوں نے کنٹراکٹ کے اسا س پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے گریجویٹ ملازمین کی تنخواہیں یومیہ 500 روپئے ہیں جبکہ جو ملازمین گریجویٹ نہیں ہیں ان کی یومیہ اجرت 300 روپئے ہے جو کہ ناکافی ہے۔انہوں نے اس سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان کو بھی ایک مکتوب حوالہ کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کے سلسلہ میں اقدامات کی خواہش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے محکمہ مال کے مجاز عہدیداروں کی خدمات کے حصول کے لئے تعلیم یافتہ اور وقف قوانین سے واقف عملہ کے تقرر اور ضلع واری اساس پر عملہ کی فراہمی کی صورت میں جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ مولانا سید ابولفتح بندگی پاشاہ نے وقف بورڈ کے شعبہ جات میں تال میل اور بہتری لانے کے لئے لازمی ہے کہ بورڈ میں باصلاحیت افراد کے تقرر کو یقینی بنایا جائے اور بورڈ کو موصول ہونے والی درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ارباب مجاز و حکومت کی جانب سے بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لئے رہنمایانہ خطوط اور عملہ کی تعداد کی منظوری عمل میں لائی جائے۔م