قابضین کی مدد کے مرتکب ، طویل مدت سے ایک ہی شعبہ میں کام کرنے والوں کو تبادلے کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔19۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جائیدادوں کی تباہی کے لئے وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ایسے بدعنوان ملازمین ہیں جو کہ اپنے حقیر مفادات کے لئے وقف جائیدادوں کو تباہ کرنے والوں سے ساز باز کرتے ہوئے ان قابضین کو شکایت کنندگان کی تفصیلات فراہم کر رہے ہیں اور قابضین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ شکایت کنندگان کے خلاف بورڈ میں شکایت کرتے ہوئے اپنے ادعا کو پیش کریں اور تعمیری سرگرمیوںک کو جاری رکھیں۔ وقف بورڈ میں موجود شعبہ جات بالخصوص کرایہ کی وصولی ‘ اکاؤنٹس اور اسٹابلشمنٹ میں موجود عہدیدار و ملازمین تلنگانہ وقف بورڈ کی جائیدادوں پر ہونے والے قبضہ جات اور ان کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کے بجائے ان قابضین کی مدد کے مرتکب بن رہے ہیں جو اوقافی جائیدادوں کو تباہ کررہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ کے اضلاع بالخصوص رنگاریڈی کے علاوہ شہر حیدرآباد میں موجود جائیدادوں کے سلسلہ میں بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات میں خود بورڈ کے ملازمین کی کارکردگی مشتبہ ہے کیونکہ جن جائیدادوں کے متعلق شکایات موصول ہورہی ہیں اور صدرنشین کی جانب سے معاملہ کی تحقیقات کے احکام جاری کئے جا رہے ہیں تو اس کے فوری بعد متعلقہ شعبہ سے درخواست کی نقل ان لوگوں تک پہنچ رہی ہے جو جائیداد کو تباہ کرنے کے مرتکب بنے ہوئے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان اور ارکان وقف بورڈ کو چاہئے کہ وہ فوری اس سلسلہ میں ملازمین کی کارکردگی کے متعلق شکایات کا اپنے طور پر جائزہ لیتے ہوئے فوری طور پر طویل مدت سے ایک ہی شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے تبادلوں کو یقینی بنائیں کیونکہ طویل مدت سے ایک ہی شعبہ میں خدمات انجام دیتے ہوئے عہدیدار و ملازمین اپنی من مانی کر رہے ہیں اور جو درخواستیں وصول ہورہی ہیں ان درخواستوں کے خلاف فوری درخواستیں داخل کرواتے ہوئے ان درخواستوں کی یکسوئی کو تعطل کا شکار بنایا جانے لگا ہے۔اوقافی جائیدادوں پر ہونے والی غیر مجاز تعمیرات کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کے بجائے انسپکٹر آڈیٹرس غیر مجاز تعمیرات کے لئے راہ ہموار کرنے والوں کی طرفداری میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بورڈ کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں اورتاخیر کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر قانونی رائے کے حصول کا بہانہ کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کیا جا رہاہے کہ اگر قانونی رائے حاصل کئے بغیر کوئی کاروائی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بورڈ کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے درخواستیں تعطل کا شکار ہونے لگی ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ رنگاریڈی کے علاقوں میں عرصہ دراز سے خدمات انجام دینے والے انسپکٹر آڈیٹرس اور بورڈ کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو داخلی تبادلوں کے ذریعہ یہ ناجائز قابضین اور بورڈ کے ملازمین کے درمیان موجود گٹھ جوڑ کو توڑنے کی صورت میں حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔م