بھوپال ۔13 جولائی ۔ (یو این آئی ) مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں دو غیر مسلم ارکان کے تقرری پر جاری تنازع کے درمیان شیعہ برادری کی جانب سے بھی پہلی بار عوامی ردعمل سامنے آیا ہے ۔ کروند میں واقع آل محمد شیعہ جامع مسجد کے امام جمعہ مولانا سید اظہر حسین رضوی نے وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کو شامل کیے جانے پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ وقف کی جائیدادیں مسلم سماج کی امانت ہیں اور ان کے انتظام و انصرام میں غیر مسلموں کی شرکت مناسب نہیں ہے ۔مولانا رضوی نے کہا کہ وقف کی زمینیں اور جائیدادیں مسلم سماج کی بہبود، تعلیم اور سماجی ترقی کے مقصد سے عطیہ کی گئی تھیںاور فیصلہ سازی کا عمل بھی مسلم سماج کے نمائندوں کے ہاتھوں میں ہی رہنا چاہیے ۔ انہوں نے نئے وقف بورڈ میں شیعہ برادری کے کسی نمائندے کو جگہ نہ دیے جانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں کم از کم ایک شیعہ نمائندے کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر کوئی مذہبی عہدیدار یا عالم اس فیصلے کی حمایت کرتا ہے یا ایسے عہدیداروں کا خیر مقدم کرتا ہے تو اسے مسلم سماج کے جذبات کے مطابق نہیں مانا جا سکتا۔
انہوں نے مذہبی معاملات میں سماج کے جذبات کا احترام کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم سماج سے آپسی اختلافات بھلا کر متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سماج کے سامنے پیدا ہونے والے کئی چیلنجوں کی ایک وجہ اتحاد کا فقدان بھی ہے ۔اس دوران وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کے تقرر کو لے کر تنازع قانونی موڑ بھی لیتا دکھائی دے رہا ہے ۔ وقف بورڈ کے صدر سنور پٹیل نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں ممکنہ عرضیوں کے پیش نظر بورڈ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں کیویٹ دائر کی ہے ، تاکہ کسی بھی عرضی پر سماعت سے پہلے بورڈ کا موقف بھی سنا جا سکے ۔