وقف جائیدادوں کے دستاویزات وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں

   


ٹی وی چیانلس پر وقف ایکٹ کو ختم کرنے کی مہم کے مباحث میں چیرمین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خاں کا ادعا
حیدرآباد۔16۔ستمبر(سیاست نیوز) وقف جائیدادوں کے دستاویزات وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں اور مسلمانوں کے آباء و اجداد نے اپنی قوم و ملت کے لئے یہ جائیدادیں وقف کی ہیں ۔صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے انگریزی ٹیلی ویژن چیانل ٹائمس ناؤ کی جانب سے چلائی جانے والی ’’ وقف ایکٹ ‘‘ کو ختم کرنے کی مہم کے سلسلہ میں چلائے جانے والی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی۔جناب محمد مسیح اللہ خان وقف ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ایکٹ پر اعتراض کر رہے ہیں انہیں پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ وقف ایکٹ 1954 ہو یا وقف ایکٹ 1995 دونوں میں وقف بورڈ کو حاصل اختیارات واضح ہیں لیکن اس کے باوجود بے بنیاد پروپگنڈہ کے ذریعہ یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وقف بورڈ اراضیات پر قابض ہے ۔ مباحثہ میں شامل ایک وکیل نے صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ردعمل پر استفسار کیا کہ اگر مسلمانوں کے آباء و اجداد نے اپنی قوم کے لئے جائیدادیں تحفہ میں دی ہیں اور فلاح و بہبود کے لئے وقف کی ہیں تو دیگر طبقات کے آبء و اجداد نے کیا کیا !جناب محمد مسیح اللہ خان نے اس استفسار پر برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو یہ استفسار کر رہے ہیںوہ جائیں اور اپنے آباء و اجداد سے استفسار کریں کہ ان کے لئے انہوں نے کیا چھوڑا ہے! صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ وقف بورڈ کے پاس جو جائیدادیں ہیں ان کے ریکارڈس اور دستاویزات موجود ہیں اسی لئے یہ الزام عائد کرنا درست نہیں کہ وقف بورڈ اراضیات پر قبضہ کر رہا ہے اور وقف ایکٹ کا غلط استعمال کیا جا رہاہے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ وقف بورڈ کے ریکارڈس پر اٹھائے جانے والے سوالات بے بنیاد ہیں۔انہوں نے تمل ناڈو کی مندر اور مواضعات کو موقوفہ قرار دیئے جانے کے مسئلہ پر دریافت کرنے پر کہا کہ ممکن ہے وہ اس دعوے کو مسترد نہیں کرسکتے کیونکہ زمانۂ دراز سے ہندستان میں مسلمان جاگیردار اور حکمراں رہے ہیں اور ان لوگوں نے مختلف طبقات کو جاگیریں عطا کی ہیں۔ مسیح اللہ خان نے بتایا کہ وقف ایکٹ پر اعتراض کرنے والوںکو کسی بھی طرح کے اعتراض سے قبل انڈومنٹ قوانین کا جائزہ لینا چاہئے جو کہ مخصوص طبقہ کو استفادہ کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ موقوفہ اراضیات سے استفادہ کرنے والوں میں تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں اور ان جائیدادوں سے ہونے والی آمدنی منشائے وقف کے مطابق استعمال کی جاتی ہے۔م