ہنوئی ۔ 4 جولائی (ایجنسیز) ہنوئی حکومت کو خدشہ ہے ملکی معاشی ترقی کا سفر مکمل کرنے سے قبل ہی اس کی آبادی عمر رسیدہ ہو جائے گی۔ ویتنام نے اپنی دہائیوں پرانی دو بچوں کی پالیسی ختم کرنے کے ایک سال بعد شرح پیدائش میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے والی ماؤں کو 228 امریکی ڈالر تک کا یکمشت بونس دیا جائے گا، جو ملک کی اوسط ماہانہ تنخواہ کے تقریباً دو تہائی کے برابر ہے۔ چہارشنبہ سے نافذ ہونے والی اس پالیسی کے تحت زچگی کی چھٹی کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر سات ماہ کر دی گئی ہے جبکہ دوران حمل طبی معائنہ سمیت دیگر سہولیات بھی بلا اجرت فراہم کی جائیں گی۔ گزشتہ برس تک ویتنام میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ارکان تک کو تیسرا بچہ پیدا کرنے پر تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا تاہم اب حکومت آبادی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے باعث اپنی پالیسی تبدیل کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اوسط عمر میں اضافے اور شرح پیدائش میں مسلسل کمی نے ویتنام کو دنیا کے تیزی سے عمر رسیدہ ہونے والے آبادی میں شامل کر دیا ہے۔ویتنام میں 1988ء میں فی کنبہ دو بچوں کی سرکاری حد متعارف کرائی گئی تاہم اس پر عمل درآمد پڑوسی ملک چین کی طرح سخت نہیں تھا، جہاں ایک بچے کی پالیسی کے دوران جبری نس بندی اور جبری اسقاط حمل جیسے اقدامات بھی کیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت ویتنام میں شرح پیدائش اگرچہ آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار 2.1 بچے فی خاتون کی سطح سے کم ہو کر 1.93 رہ گئی ہے تاہم یہ اب بھی بیشتر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب اوسط عمر تقریباً 75 سال تک پہنچ چکی ہے جبکہ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔