ویسے نفرت کو پالتے ہیں آپ

   

اسمبلی چناؤ … ریکارڈ پولنگ سے بی جے پی خوفزدہ
ممتا بمقابلہ گیانیش کمار … بنگال میں نفرت کا طوفان

رشیدالدین
’’ممتا بنرجی بمقابلہ گیانیش کمار‘‘ یوں تو انتخابات سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہوتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ مقابلہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کا مشترکہ طور پر اپوزیشن پارٹیوں سے ہورہا ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا یہ پہلا الیکشن کمیشن ہے جو برسر اقتدار بی جے پی اور مودی حکومت کے ایجنٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اپوزیشن کے خلاف کارروائی ، بیان بازی اور بی جے پی کے حق میں کھل کر میدان میں آتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اپنا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ موقف ختم کرلیا ہے۔ لوک سبھا چناؤ ہو یا ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار بی جے پی کے الیکشن ایجنٹ کے رول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گیانیش کمار کو بی جے پی کی کھل کر تائید پر کوئی افسوس ، ندامت اور پچتھاوا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے لئے فخر اور اعزاز تصور کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ گیانیش کمار اور دوسرے الیکشن کمشنرس کو تاحیات تحفظ فراہم کیا ہے ۔ عہدہ پر چاہے کچھ بھی کرلیں ، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ الیکشن کمیشن کی جانبداری اور سیاہ کارناموں پر عدلیہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ چار ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقے میں اسمبلی چناؤ کا مرحلہ تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ ٹاملناڈو ، آسام ، کیرالا اور پڈوچیری میں چناؤ مکمل ہوگئے جبکہ مغربی بنگال میں ایک مرحلہ مکمل ہوا اور دوسرے مرحلہ کی 29 اپریل کو تکمیل ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے دوسری ریاستوں کے مقابلہ بنگال پر توجہ مرکوز کی کیونکہ بنگال میں اقتدار کا حصول مودی ۔امیت شاہ کا خواب ہے۔ فہرست رائے دہندگان کی تیاری سے لے کر رائے دہی کے انتظامات تک ساری توجہ مغربی بنگال پر رہی۔ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے بہانے 27 لاکھ سے زائد ووٹرس کے نام حذف کردیئے گئے۔ الیکشن کمیشن نے لاکھوں ناموں کو حذف کرتے ہوئے زیادہ تر مسلمانوں کو نشانہ بنایا تاکہ ترنمول کانگریس کو مسلمانوں کی تائید سے محروم کیا جائے ۔ کیرالا ، آسام اور پڈوچیری میں 9 اپریل کی رائے دہی نے تمام ریکارڈ توڑدیئے ۔ ٹاملناڈو اور مغربی بنگال کے پہلے مرحلہ میں بھی رائے دہندوں کا جوش و خروش بی جے پی اور الیکشن کمیشن کیلئے نوشتہ دیوار ہے۔ بنگال میں عوامی رجحان تو ممتا بنرجی کے حق میں دکھائی دے رہا ہے لیکن گیانیش کمار الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ کیا کمال کریں گے ، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ بہار کے حالیہ نتائج گیانیش کمار کے کمالات اور جادوگری کی تازہ مثال ہیں۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو شکست دینے کا کوئی حربہ بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ایک طرف مرکزی حکومت کی مشنری تو دوسری طرف گیانیش کمار اینڈ کمپنی نے جمہوریت اور دستور کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جانبدارانہ فیصلے کئے۔ ٹاملناڈو اور مغربی بنگال کے پہلے مرحلہ کے رجحانات میں بی جے پی اور الیکشن کمیشن میں کھلبلی پیدا کردی ہے۔ ایم کے اسٹالن کی کامیابی کو شکست میں بدلنا آسان نہیں لیکن بنگال کے دوسرے مرحلہ یعنی 29 اپریل کو کچھ نہ کچھ سازش ضرور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال میں رائے دہی دو مراحل میں رکھی گئی۔ پہلے مرحلہ کی رائے دہی کے دن نریندر مودی بنگال میں دوسرے مرحلہ کی مہم میں مصروف تھے اور ان کی باڈی لینگویج اور کمزور جملہ بازی سے شکست کے آثار نمایاں دکھی دے رہے تھے۔ انتخابی شیڈول کی اجرائی سے لے کر مہم تک محسوس ہورہا تھا جیسے بی جے پی گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن لڑ رہی ہے ۔ مودی ۔ امیت شاہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنگال ، ٹاملناڈو ، کیرالا اور آسام میں شکست کی صورت میں مرکز میں زوال کا آغاز ہوگا۔ اتنا ہی نہیں بی جے پی میں مودی ۔ امیت شاہ کے خلاف بغاوت کی آوازیں اٹھیں گی کیونکہ ناراض قائدین کو محض نتائج کا انتظار ہے۔ مودی ۔امیت شاہ ، یوگی ادتیہ ناتھ ، ہیمنت بسوا سرما کے علاوہ مرکمی وزراء اور بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹرس نے بنگال میں ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے بنگال ٹائیگر سے مقابلہ کیلئے دہلی کی فوج نے مغل اعظم کے ’’مان سنگھ یلغار ہو‘‘ کی طرح حملہ کیا ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ شہزادہ سلیم کے مشورہ پر چلتے ہوئے بنگال کے رائے دہندے دل والوں کا ساتھ دیں گے یا دولت والوں کا ۔ بنگال میں 93 فیصد اور ٹاملناڈو میں 85 فیصد رائے دہی نے آزادی کے بعد سے اب تک کے تمام ریکارڈس توڑ دیئے ہیں۔ پہلے مرحلہ کے 16 اضلاع میں 8 ضلع ایسے ہیں جہاں 95 فیصد سے زائد پولنگ ریکارڈ کی گئی ۔ دونوں ریاستوں میں ریکارڈ پولنگ پر مبصرین کی رائے مختلف ہے۔ بنگال کے بارے میں مبصرین کا ماننا ہے کہ عوام نے SIR مہم کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ بی جے پی اسے تبدیلی کے حق میں ووٹ قرار دے رہی ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کے نام پر مغربی بنگال کو نیم فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ۔ ریاست کی پولیس کے علاوہ CRPF کے 2 لاکھ 40 ہزار جوان تعینات کئے گئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 لوک سبھا چناؤ میں ملک بھر میں 3 لاکھ 40 ہزار نیم فوجی جوانوںکو تعینات کیا گیا تھا لیکن ایک ریاست کے چناؤ میں 2.40 لاکھ جوانوں کی تعیناتی مرکز اور الیکشن کمیشن کے منصوبہ کو بے نقاب کرتی ہے۔ بنگال کے ہر 100 آدمی پر ایک CRPF جوان تعینات کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے بنگال میں 483 اعلیٰ عہدیداروں کے تبادلے کئے جن پر ممتا بنرجی کے قریبی ہونے کا الزام ہے جبکہ آسام ، کیرالا اور ٹاملناڈو میں صرف 23 عہدیداروں کا تبادلہ کیا گیا۔ SIR کے نام پر بنگال میں 27 لاکھ 15 ہزار ناموں کو فہرست سے نکال دیا گیا اور ان کی اپیلوں کی کوئی سماعت نہیں ہوئی۔پہلے مرحلہ میں 1428771 افراد کو رائے دہی سے محروم کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 19 ٹریبونلس نے 650 درخواستوں کی سماعت کی گئی اور 136 نام فہرست میں شامل کئے گئے جبکہ 1428650 افراد رائے دہی سے محروم رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں ۔ الیکشن کے بعد وہ جائز ووٹرس ثابت ہوں گے تو پھر ووٹنگ سے محروم کرنے کیلئے کون ذمہ دار ہوں گے۔ حیرت کی بات ہے کہ دستور ، قانون اور جمہوریت کے تحفظ کی دعویدار سپریم کورٹ بھی خاموش ہیں۔ 14 لاکھ 28 ہزار افراد سے ناانصافی پرگودی میڈیا کے ٹی وی چیانلس اور اخبارات پر سناٹا طاری ہے۔ دوسرے مرحلہ میں 13 لاکھ سے زائد افراد رائے دہی کے دستوری حق سے محروم رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے آئی پیاک کے دفتر پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دھاوے کے دوران ممتا بنرجی کی مداخلت کو جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے ریمارک کیا کہ دستور سازوں نے گمان نہیں کیا ہوگا کہ مستقبل میں ایسا ہوسکتا ہے۔ ممتا بنرجی کی دھاوے کے دوران مداخلت جب جمہوریت کو خطرہ میں ڈال سکتی ہے تو پھر 27 لاکھ افراد کو دستوری اور جمہوری حق سے محرومکرنے پر جمہوریت محفوظ کیسے رہے گی؟
بی جے پی کی نفرتی سیاست سے کون واقف نہیں لیکن مغربی بنگال میں نفرت کا طوفان دیکھا گیا جس کی قیادت نریندر مودی اور امیت شاہ نے کی۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ اور آسام کے متنازعہ چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور رائے دہندوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم جو سابق میں بھی مسلمانوں کے خلاف زہر اگل چکے ہیں ، انہوں نے بنگال میں ایک خاص مذہب کے لوگ کہہ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور ہندوؤں سے کہا کہ بنگال میں ان کا رہنا مشکل ہوجائے گا۔ امیت شاہ نے بابری مسجد اور بنگلہ دیشی دراندازوں کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ بنگلہ دیش کے دراندازوں کو واپس بھیجنے سے قبل مودی اور امیت شاہ کو بنگلہ دیش کی درانداز اور ہندوستان کی سرکاری مہمان شیخ حسینہ کو پہلے واپس بھیجنا چاہئے۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے جہالت کی انتہا کردی اور ملک کیلئے مذاق کا موضوع بن گئے۔ سبھاش چندر بوس کے تاریخی الفاظ ’’تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا‘‘ کو سوامی ویویکانند سے جوڑ دیا ۔ یوگی نے مولانا اور مولویوں کو سڑک پر جھاڑو لگانے کے علاوہ بنگال میں اذان اور نماز پر پابندی کی بات کہی۔ یوگی نے انتخابی مہم میں غیر ضروری طور پر مقدس کعبہ کا ذکر کیا اور کہا کہ بنگال کو کعبہ بننے نہیں دیا جائے گا۔ یوگی نے اردو زبان کی مخالفت اردو الفاظ کے ذریعہ کی اور بنگالی زبان کو ترقی دینے کا وعدہ کیا ۔ ہیمنت بسوا سرما نے آسام میں 600 مدارس بند کرنے کا ذکر کرتے ہوئے مغربی بنگال میں مدارس کو بند کرنے کا وعدہ کیا ۔ بی جے پی کے تمام اسٹار کمپینرس کی نفرتی مہم بنگال پر کس حد تک اثر انداز ہوگی اس کا اندازہ 4 مئی کو نتائج کے ذریعہ ہوجائے گا۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کے پاس ترقی اور فلاح و بہبود کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے اور عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہوئے کامیابی کی توقع کر رہے ہیں۔ نفرتی مہم پر ندیم فرخ نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہے ؎
جیسے اولاد پالتے ہیں ہم
ویسے نفرت کو پالتے ہیں آپ