ویمنس ریزرویشن کی تائیدمگر 2023کا قانون نافذ ہو:راہول

   

نئی دہلی، 17 اپریل (یواین آئی) قانون ساز اداروں میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق 131واں آئینی ترمیمی بل جمعہ کو لوک سبھا میں منظور نہ ہونے کے بعد کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی خواتین کے ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتی ہے ، لیکن حکومت اس بل کے ذریعے ملک کے انتخابی ڈھانچے کو تبدیل کرنا چاہتی تھی، اسی لیے اس کی مخالفت کی گئی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اور پورا اپوزیشن خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن دینے کے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ “میں وزیر اعظم سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ 2023 کے خواتین ریزرویشن بل کو آج ہی نافذ کریں، اپوزیشن ان کا مکمل ساتھ دے گی۔” راہول گاندھی نے کہا کہ دراصل حکومت خواتین کے ریزرویشن کی آڑ میں ملک کے انتخابی نظام میں تبدیلی لانا چاہتی تھی، اسی لیے اپوزیشن نے اس آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی ہمیشہ خواتین کو حقوق، عزت اور سیاست میں مناسب نمائندگی دینے کے حق میں رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل 2023 میں پہلے ہی منظور ہو چکا ہے ، لیکن حکومت نے اس کے نفاذ کو حلقہ بندی سے جوڑ دیا، جو درست نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری جاری ہے اور حکومت اسی دوران یہ بل لے آئی، اگر اسے مردم شماری کے بعد لایا جاتا تو اپوزیشن مکمل حمایت کرتی۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بل کے منظور نہ ہونے کو ملک کی جمہوریت اور یکجہتی کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو حلقہ بندی سے جوڑ کر اس کی منظوری کو پہلے ہی ناممکن بنا دیا تھا۔