ٹرمپ کی ایران سے ناراضگی، نہ جنگ ہوگی نہ معاہدہ

   

دو ماہ بعد بھی حالات جمود کا شکار، ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے تیار : قالیباف

واشنگٹن ۔ 12 مئی (ایجنسیز) گذشتہ 8 اپریل سے نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کو دو ماہ گزرنے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات جمود کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ تعطل اس وقت پیدا ہوا جب جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر ایران کا ردعمل موصول ہوا، جسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نہایت منفی اور بہت برا قرار دیا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے گذشتہ پیر کے روز خبردار کیا تھاکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ اب وینٹی لیٹر پر ہے اور آخری سانسیں لے رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تہران پر اپنے نیوکلیئر پروگرام سے دستبردار ہونے کیلئے دباؤ ڈالنے کے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کا خیال ہے کہ میں صبر کھو دوں گا یا اس تنازعہ سے اکتا جاؤں گا، یا توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مجھ پر جنگ ختم کرنے کیلئے دباؤ بڑھے گا، لیکن میں واضح کر دوں کہ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور میں مکمل فتح حاصل کروں گا۔ٹرمپ نے موجودہ ایرانی ردعمل کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے اسے کچرا قرار دیا۔دوسری جانب ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکہ کو کشیدگی بڑھانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی تجویز پر ایرانی جواب میں تمام محاذوں بالخصوص لبنان میں جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے، جہاں اسرائیل کو ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کا سامنا ہے۔تہران نے اپنے جواب میں جنگی نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خود مختاری پر زور دیا ہے۔ ایران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت دے، پابندیاں اٹھائے اور ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندی کا خاتمہ کرے۔واضح رہے کہ امریکی تجویز میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام جیسے حساس ترین مسائل پر مذاکرات شروع کرنے سے پہلے لڑائی کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔یہ تمام تر صورتحال امریکی صدر اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات سے قبل سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ جو کل بروز چہارشنبہ بیجنگ پہنچ رہے ہیں، توقع ہے کہ وہ چین پر ایران کے ساتھ بحران حل کرنے اور اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کیلئے دباؤ ڈالیں گے۔دریں اثنا امریکی بحریہ نے گذشتہ روز اعلان کیا ہے کہ ایک ایٹمی آبدوز جبرالٹر کی بندرگاہ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی بحریہ کے چھٹے بیڑے کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کا یہ دورہ امریکہ کی صلاحیت، لچک اور اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مسلسل وابستگی کا مظہر ہے۔ تاہم ابتدا میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ برطانوی علاقے میں اس آبدوز کی آمد کا تعلق امریکہ کی امن تجویز کو ایران کی جانب سے مسترد کیے جانے سے ہے یا نہیں۔
محکمہ دفاع نے اس ایٹمی آبدوز کا نام ظاہر نہیں کیا ہے جو بیلسٹک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کا تعلق اوہائیو کلاس سے ہے۔