کیمرے، جنریٹر، لیاپ ٹاپ اور کمپیوٹرس کا کہیں پتہ نہیں، لاکھوں کا خرچ، عہدیداروں کی من مانی
حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے ادارہ ٹمریز میں خریدی گئی اشیاء موجود نہ ہونے کی شکایات کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ٹمریز کے عہدیداروں نے بی آر ایس دور حکومت میں جو کیمرے‘ جنریٹر ‘ لیاپ ٹاپ‘ کمپیوٹرس خریدے ہیں ان میں بیشتراشیاء کی محض تصاویر لگاتے ہوئے بل جاری کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے معاملہ میں بی آر ایس حکومت نے جو موقف اختیار کیا تھا وہی چال بے ڈھنگی اب بھی جاری ہے اور من مانی کرنے والے عہدیدار اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے کسی بھی طرح کی کاروائی کے بجائے اپنے فائدے حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے مختلف مقامات پر چلائے جانے والے اسکولوں میں بی آر ایس دور حکومت میں 5جنریٹرس کی خریدی عمل میں لائی گئی تھی لیکن ان اسکولوں کے ذمہ داروں کو پتہ تک نہیں ہے کہ ان کے نام پر یہ جنریٹر خریدے گئے ہیں اسی طرح ادارہ کی جانب سے تصویر کشی کے لئے لاکھوں روپئے کا کیمرہ خریدا گیا تھا جو کہ ادارہ کے صدر دفتر میں اب دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی اسٹاک رجسٹر میں اس کا کوئی تذکرہ موجود ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان جنریٹر س کے علاوہ کیمرہ کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ٹمریز میں بھی وقف اسٹینڈنگ کونسل جو من مانی اشتہارات جاری کرتے ہوئے لاکھوں روپئے غیر معروف اخبارات کو جاری کروایا کرتے ہیں اسی طرح کے افراد کا راج چلتا رہا ہے اور ادارہ کی جانب سے بھی غیر معروف اخبارات جو کبھی شائع نہیں ہوتے ان کو بھی لاکھوں روپئے کے اشتہارات جاری کئے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بی آر ایس کے دور سے جاری ان بے قاعدگیوں اور بد عنوانیوں کے بعد اب محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کے احکام کی محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کے پاس کوئی اہمیت و وقعت نہیں رہی بلکہ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے سرکاری احکامات پر بھی محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار عمل آوری کے لئے تیار نہیں ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 5جولائی 2024 کو جی او آر ٹی نمبر 54جاری کرتے ہوئے تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں ڈیپیوٹیشن کے اساس پرجنرل منیجرکے عہدہ پر خدمات انجا م دے رہی محترمہ زبیدہ النساء بیگم ڈپٹی کلکٹر کو ٹمریز سیکریٹری محترمہ عائشہ مسرت خانم کے ساتھ خدمات انجام دینے کیلئے احکام جاری کئے گئے تھے اور ساتھ میں منیجر کے عہدہ پر موجود محترمہ کے پرسیس کو ڈی ایم ڈبلیو او رنگاریڈی کے دفتر میں خدمات کی انجام دہی کی ہدایت دی گئی تھی لیکن محترمہ زبیدہ النساء بیگم اب بھی تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں جنرل منیجر کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں ۔ اس طرح سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کو بھی اب ماتحت عہدیدار خاطر میں نہیں لا رہے ہیں کیونکہ یہ ماتحت عہدیدار اپنی مرضی کے مطابق خدمات انجام دیتے ہوئے محکمہ میں من مانی کو فروغ دینے لگے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود ٹمریز میں جاری من مانی کے اثرات اب محکمہ اقلیتی بہبود کے دیگر ادارہ جات پر بھی مرتب ہونے لگے ہیں جس کی مثال سرکاری احکامات پر عمل نہ کیا جانا ہے۔(جاری ہے)