بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی سے ملحقہ ٹیچرس کے نمائندوںکی مہم کا آغاز، آئندہ ماہ اعلامیہ کا امکان
حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل ٹیچر زمرہ کی ایم ایل سی نشست کے چناؤ کے سلسلہ میں ٹیچرس کی مختلف تنظیمیں اور یونینوں نے خود کو انتخابی مہم میں سرگرم کرلیا ہے۔ ٹیچرس زمرہ کے رکن کونسل کے جناردھن ریڈی کی میعاد 29 مارچ کو ختم ہورہی ہے۔ بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی نے اپنی تائیدی ٹیچرس تنظیموں کو کونسل کی اس نشست کے حصول کیلئے متحرک کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں ووٹرس کی قطعی فہرست رائے دہندگان جاری کی جس کے مطابق 29501 ٹیچرس رائے دہی کے اہل ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلامیہ کی اجرائی باقی ہے لیکن اہم سیاسی جماعتوں نے اس نشست پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فروری کے اواخر یا مارچ کے پہلے ہفتہ میں انتخابی اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ جناردھن ریڈی نے پروگریسیو ریکگنائزڈ ٹیچرس یونین (PRTU) کی تائید سے 2017 میں اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں وہ بی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ کونسل میں دو میعادوں کی تکمیل کرنے والے جناردھن ریڈی ہیٹ ٹرک کے بارے میں پُرامید ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مرتبہ پی آر ٹی یو کی جانب سے نئے امیدوار کو میدان میں اتارا جائے گا۔ اس سلسلہ میں سی ایچ کیشو ریڈی کا نام ٹیچرس کے حلقوں میں زیر گشت ہے۔ ٹیچرس یونین کے ناراض گروپ کی جناردھن ریڈی کو تائید حاصل ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی نے ابھی تک امیدواری یا امیدوار کے نام کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ٹیچرس زمرہ کی اس نشست کیلئے کئی امیدوار میدان میں ہیں اور اسکولس، کالجس اور یونیورسٹیز کا دورہ کرتے ہوئے رائے دہندوں سے ملاقات کررہے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے اس مرتبہ امیدوار کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔ یونائٹیڈ ٹیچرس فیڈریشن کے پی مانک ریڈی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ فیڈریشن کا تعلق سی پی ایم سے ہے۔ پی آر ٹی یو کے علحدہ گروپ سے تعلق رکھنے والے جی ہرش وردھن ریڈی امیدواری کیلئے کانگریس کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سی پی آئی کی تائیدی اسٹیٹ ٹیچرس یونین کی جانب سے بھوجنگ راؤ اور بی جے پی کی تائید سے بھی کسی امیدوار کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔ تینوں متحدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے ٹیچرس میں کونسل کی یہ نشست کا الیکشن اہمیت کا حامل ہے۔ر