سابق ڈپٹی چیف منسٹرس ٹی راجیا اور کڈیم سری ہری میں ٹھن گئی ، پارٹی قیادت فکر مند
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : حکمران ٹی آر ایس کے قائدین کے درمیان اختلافات اور گروپ بندیاں سر اُبھارہی ہیں ۔ ضلع ورنگل میں دونوں سابق ڈپٹی چیف منسٹرس ٹی راجیا اور کڈیم سری ہری کے درمیان ٹھن گئی ہے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو برسر عام تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ریاست کے مختلف اضلاع ، رنگاریڈی ، کھمم ، محبوب نگر کے علاوہ دوسرے اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس کے قائدین نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ۔ بالخصوص کانگریس اور دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کے قائدین نے آج تک قبول نہیں کیا ہے ۔ جس سے پارٹی کیڈر تشویش کا شکار ہے ۔ ایک طرف ریاست میں بی جے پی شور شرابہ کررہی ہے ۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی خاموشی سے اضلاع میں اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے لیے کام کررہی ہے ۔ ایسے میں ٹی آر ایس قائدین بالخصوص ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل کے جھگڑوں سے ٹی آر ایس قیادت پریشان ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی جانب سے پارٹی قائدین کو طلب کر کے بات چیت کرنے کے باوجود قائدین کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ دور نہیں ہوئے ہیں بلکہ یہ قائدین جب بھی موقع ملتا ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے کبھی باز نہیں آرہے ہیں ۔ جس سے ٹی آر ایس قیادت فکر مند ہے ۔ ٹی آر ایس کے کئی سینئیر قائدین نے پارٹی کی سرگرمیوں سے دوری بنائے رکھا ہے ۔ ضلع ورنگل میں اسمبلی حلقہ اسٹیشن کی نمائندگی کرنے والے سابق ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا اور ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل سابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کے خلاف لمبے عرصہ سے جھگڑا چل رہا ہے اور وقفہ وقفہ سے یہ دونوں قائدین ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ تازہ طور پر ٹی راجیا نے کڈیم سری ہری پر 361 نکسلائٹس کو ہلاک کرانے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی راج شیکھر ریڈی ان کے گرو تھے لیکن موجودہ چیف منسٹر کے سی آر ان کے بھگوان ہے اور وہ اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور کے پجاری ہیں اور اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور ان کا اڈہ ہے ۔ جہاں کسی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل سی نہیں بلکہ رکن اسمبلی سے ترقی ہوتی ہے ۔ 14 سال تک اسٹیشن گھن پور کی نمائندگی کرنے والے کڈیم سری نے حلقہ کی ترقی کے لیے کوئی نہیں کیا ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ راجیا کا دماغی توازن کھو گیا ہے ۔ انہوں نے اپنی زبان پر لگام دینے ٹی راجیا کو مشورہ دیا بصورت دیگر سنگین نتائج کا انتباہ دیا اور کہا کہ اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور ٹی راجیا کی جاگیر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راجیا کو تلنگانہ کے پہلے ڈپٹی چیف منسٹر ہونے کے اعزاز کے ساتھ انہیں برطرف کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ راجیا کی تمام بدعنوانیوں کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے ۔ اگر وہ اس کو منظر عام پر لاتے ہیں تو راجیا گاؤں میں گھوم پھر نہیں سکتے ۔ وہ نا کبھی دھوکہ دیتے ہیں اور نہ ہی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی ان کی عادت ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر وہ اسٹیشن گھن پور اسمبلی حلقہ کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں ۔۔ ن