قومی سطح پر سیاسی تبدیلیوں کی توقع کے مطابق نہیں
حیدرآباد۔18۔ڈسمبر(سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی کے اعلان سے پارٹی کے ارکان اسمبلی و پارلیمان کے علاوہ ارکان قانون ساز کونسل ودیگر قائدین خوش نہیں ہیں لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا ہے اور فیصلہ کرلیا ہے اسی لئے وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارت راشٹر سمیتی میں تبدیل کرنے کے سلسلہ میں کئے گئے مشاورتی اجلاسوں کے دوران بھی پارٹی قائدین کی قومی سیاست میں داخلہ پر رائے منقسم تھی لیکن اس کے بعد چیف منسٹر نے فیصلہ کرہی لیا تو سب نے خاموشی اختیار کرلی اور اب جبکہ بھارت راشٹر سمیتی کے قومی دفتر کا دہلی میں افتتاح عمل میں لایا جاچکا ہے تو پارٹی قائدین میں مایوسی پائی جانے لگی ہے کیونکہ پارٹی کے قومی دفتر کے افتتاح کے باوجود کوئی سیاسی سرگرمیاں یا ردعمل نظر نہیں آیا بلکہ انتہائی مایوس کن صورتحال کے سبب پارٹی قائدین کو ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے دہلی میں پارٹی کے قومی دفتر کا افتتاح انجام دینے کے بعد دو یوم قیام کیا لیکن کوئی ہنگامہ آرائی نہیں رہی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے افتتاحی تقریب یا نئی قومی سیاسی جماعت کو کوئی اہمیت دی گئی جس کے نتیجہ میں وہ پارٹی قائدین جو تلنگانہ میں پارٹی میں اہمیت حاصل کرنے سے قاصر تھے وہ قومی سیاست میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے سرگرم ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے وہ بھی خاموشی اختیار کرتے ہوئے ریاست اور اپنے حلقہ جات کی حد تک محدود ہونے کے متعلق منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں۔بھارت راشٹر سمیتی کے اعلان کے ساتھ ہی قومی سطح پر بڑی سیاسی تبدیلیوں اور ہنگامہ آرائیوں کی توقع کی جا رہی تھی لیکن ایسا نہ ہونے کے سبب حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ اندرون پارٹی قائدین اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے متعلق غور کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سربراہ بھارت راشٹر سمیتی نے جس انداز میں پارٹی کی قومی سرگرمیوں کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا تھا اس طرح سے ممکن نہ ہونے پر خود وہ مایوس ہیں اور قومی سطح پر پارٹی کو قائدین حاصل ہونے کی توقع کم ہی نظر آرہی ہے اسی لئے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے قائدین قومی سیاست کے نام پر بی آر ایس میں سرگرم رہتے ہوئے اپنے وقت کو ضائع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ م